بلوچستان کے ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین پر پنجاب پولیس نے کریک ڈاؤن کرکے متعدد خواتین کو گرفتار کر لیا ہے۔
بی وائی سی قیادت کی ماورائے آئین گرفتاری کے خلاف پور ا بلوچستان گذشتہ کئی دنوں سے سراپا احتجاج ہے ، شاہراہیں بند ہیں ،لوگ سڑکوں پر ہیں۔
بی وائی سی ترجمان کے مطابق آج سیکورٹی فورسز نے تونسہ میں احتجاج پر وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا، جوبی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ، سمی دین بلوچ، بیبرگ زہری اور دیگر کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو شدید ریاستی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔کئی شرکاء کو مارا پیٹا گیا، لاٹھی چارج کیا گیا اور حکام نے ایک اور پرامن مظاہرے کو کچلنے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ پولیس اہلکار وحشیانہ طریقے سے ایک نہتی لڑکی کو گردن سے پکڑ کر اسے گھسیٹ کر موبائل وین تک لے جارہی ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ اس جبر کے باوجود مزاحمت جاری ہے اور لوگ خاموش ہونے سے انکاری ہیںاور بی وائی سی کے زیر حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ بزور طاقت انصاف کی جدوجہد کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔