تربت میں 4 دنوں  سے دھرنا جاری،بی وائی سی کا احتجاجی ریلی و مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کیچ کی جانب سے مرکزی رہنما سمی دین، لالا وہاب اور دیگر کارکنوں کی سندھ پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور تشدد کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

احتجاج کا آغاز شہید فدا چوک پر قائم دھرنا گاہ سے ہوا جو مین روڈ، تھانہ روڈ، اور کالج روڈ سے ہوتا ہوا ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے پہنچا۔ بعد ازاں ریلی کے شرکا واپس شہید فدا چوک پہنچے۔

ریلی کے اختتام پر بی این پی (بلوچستان نیشنل پارٹی) کے ضلعی آرگنائزر شے ریاض، سیاسی کارکن وسیم سفر، بی ایس او پجار کے رہنما یاسر بیبگر، بی ایس او کے رہنما صدیر ولی، اجمل بلوچ اور دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے سندھ پولیس کے رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ رہنماؤں پر تشدد، جبری گرفتاریوں اور غیر قانونی حراست کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین اور دیگر رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اگر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔

مقررین نے خطاب میں بلوچ تقدس کی پامالی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے بلوچ عوام کے خلاف ظلم و زیادتی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنا کر انصاف، انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ جب تک گرفتار رہنماؤں کو رہا نہیں کیا جاتا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی اور بلوچ عوام اپنے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

مقررین نے کہاکہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی گرفتاریاں اور ان پر تشدد انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے تشویش کا باعث ہیں اگر ریاستی جبر ختم نہ ہوا تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں، مرکزی قائدین کی گرفتاری اور ریاستی جبر کے خلاف پچھلے چار دنوں سے شہید فدا چوک پر احتجاج جاری ہے۔

Share This Article