بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پاکستانی فورسز کی جانب سے منتقل کی گئیں نعشوں کی تعداد 34 ہوگئی۔
سرکاری حکام کے ذرائع کوئٹہ کے سول ہسپتال میں درجنوں نعشیں پہنچا دی گئی ہیں۔
گذشتہ شب کوئٹہ کے کاسی قبرستان میں بھی 13 نامعلوم افراد کو دفن کردیا گیا ہے ۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے 34 میتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام لاشیں مسخ شدہ ہیں جنکی پہچان نہیں کی جارہی جبکہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو دکھائے بھی نہیں جا رہے۔
نعشوں کی خبر سنتے ہی لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایک بلوچ ماں دن بھر ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر بیٹھے دکھائی دی گئی ہے جس کے حوالسے سے کہا جارہا ہے کہ وہ ایک جبری گمشدہ شخص کی ماں ہیں۔
واضع رہے کہ 11 مارچ کو بولان مشکاف میںبی ایل ایک کی جانب سے جعفرایکسپریس ٹرین کی ہائی جیکنگ کے بعد آئی ایس پی آر نے 33 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔جبکہ بی ایل اے نے اپنے 12 سرمچاروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے ۔
18 مارچ کو 23 نعشیں کوئٹہ سول ہسپتال پہنچائی گئی تھیں جبکہ اب اطلاعات ہیں کہ مزید نعشیں لائی گئیں اور تعداد 34 ہوگئی ہے جن کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
وائس فار مسنگ پرسنز اور لاپتہ افراد لواحقین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ سول ہسپتال میں لائی گئیں نعشیں لاپتہ افراد کی ہوسکتی ہیں جنہیں ریاست پہلے کی طرح جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کرکے بطور بلوچ سرمچار ظاہر کرنے کی کوشش کرے گی۔