بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں تربت اور پنجگور میں پاکستانی فوج پر حملے میں 3 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی جس میں ایک گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے گزشتہ روز، 2 مارچ 2026 کو، تربت کے علاقے آبسر میں پاکستانی فوج کی دو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل ایک قافلے کو آئی ای ڈی (IED) حملے میں نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اس وقت انجام دی گئی جب فوجی قافلہ کہدا یوسف محلہ سے گزر رہا تھا۔ وہاں پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں نے ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے قافلے کو نشانہ بنایا، جس کی زد میں آکر ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 3 اہلکار ہلاک اور 2 شدید زخمی ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ دھماکے کے فوراً بعد حواس باختہ دشمن فوج نے علاقے میں بلاامتیاز فائرنگ کی اور عام شہریوں کو ہراساں کیا، جو ان کی شکست خوردہ ذہنیت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 3 مارچ 2026 کو پنجگور کے علاقے چتکان میں واقع فرنٹیر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹر کے اندر قابض فوج کے خفیہ اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے ہیڈ کوارٹر کے اندر قائم انٹیلیجنس دفاتر پر 9 گرنیڈ لانچر کے گولے داغے۔ جو اپنے درست اہداف پر جا لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ تربت کے علاقے آبسر میں فوجی قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملے اور پنجگور کے علاقے چتکان میں فرنٹیر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹر میں قائم آئی ایس آئی کے دفتر پر گرنیڈ لانچر سے حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔