پنجگور سے ایک نوجوان لاپتہ،نوشکی سے لاپتہ 11 افراد کی شناخت ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے پنجگور سے پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ نوشکی سے گذشتہ دنوں فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ 11 افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔

پنجگور سے فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

لواحقین کے مطابق سمیر ولد محمد ولی سکنہ نگور پنجگور کو رمضان کے مہینے سے قبل یاسین مارکیٹ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ۔

ان کا کہنا ہے کہ سمیر بارڈر کاروبار سے منسلک تھا جہاں وہ اپنی گاڑی چلاتا تھا۔

دوسری جانب ضلع نوشکی سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے گیارہ نوجوانوں کی شناخت ہوگئی ہے جن میں اسکول طلبہ بھی شامل ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نوشکی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 16 مارچ 2025 کو صبح 10 بجے کے قریب، اسٹیشن اور اس کے گرد و نواح سے پاکستانی فورسز نے تین کمسن لڑکوں، ڈرائیوروں، مزدوروں اور راہگیروں سمیت درجنوں افراد کو جبراً لاپتہ کر دیا۔

جبری طور پر لاپتہ افراد میں جماعت ششم کے طالبعلم 14 سالہ لیاقت بلوچ ولد عبد الخالق جماعت ششم کا طالبعلم 14 سالمہ عدنان بلوچ ولد محمد حیات سکنہ سکنہ غریب آباد، نوشکی، جماعت ہفتم کا طالبعلم 15 سالہ ضیاء الرحمان ولد میر احمد سکنہ سکنہ غریب آباد، نوشکی، محمد عثمان بلوچ ولد حاجی محمد حسن سکنہ زور آباد، نوشکی، زبیر احمد ولد محمد داؤد سکنہ چاغی، عطا الرحمن ولد زین العابدین سکنہ چاغی، عمر شاہ ولد کرم شاہ سکنہ پدگ، چاغی، طاہر خان ولد شیر دل خان، سکنہ پدگ، چاغی، حافظ شکور ولد حامد خان سکنہ پدگ، چاغی، جلیل احمد سکنہ قلات، ثناء اللہ سکنہ کوئٹہ شامل ہیں۔

بی وائی سی کے مطابق درج بالا فہرست کے علاوہ بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں، لاپتہ افراد کے لواحقین اور عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، انہیں لاپتہ افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ کمسن بچوں اور بے گناہ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

Share This Article