ٹرین پرمکمل کنٹرول برقرار، قیدیوں کے تبادلے کیلئے پاکستانی ریاست کے پاس محض 24 گھنٹے باقی ہیں، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے جعفر ایکسپریس ٹرین حملے کی تازہ ترین صورتحال پر میڈیا کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر ابھی تک سرمچاروں کامکمل کنٹرول برقرارہے جبکہ قیدیوں کے تبادلے کیلئے پاکستانی ریاست کے پاس محض 24 گھنٹے باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں سے جعفر ایکسپریس اور اس میں موجود یرغمالیوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ دشمن کے 200 سے زائد حاضر سروس فوجی، انٹیلیجنس ایجنٹس، پولیس اور نیم فوجی اہلکار بی ایل اے کی تحویل میں ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جو بلوچ سرزمین پر ریاستی دہشت گردی، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور قومی وسائل کی لوٹ مار میں براہ راست شریک رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے نے بین الاقوامی جنگی قوانین اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی ریاست کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ تاہم، قابض ریاست کی ہٹ دھرمی، بے حسی اور مسلسل تاخیری حربے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان اپنے ہی فوجی اہلکاروں کی زندگیاں بچانے میں سنجیدہ نہیں، بلکہ روایتی منافقت اور بے اعتنائی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ اب ایک دن مکمل ہو چکا ہے، اور قابض ریاست کے پاس محض 24 گھنٹے باقی ہیں۔ اگر دی گئی مہلت کے اندر پاکستان نے قیدیوں کے تبادلے پر عملی پیش رفت نہ کی، تو تمام یرغمالیوں کو بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یہاں ان پر بلوچستان میں ریاستی مظالم، نوآبادیاتی قبضے، نسل کشی، استحصال، اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹرائل فوری، غیر جانبدار اور شفاف ہوگا، اور جرم ثابت ہونے پر بلوچ قومی قوانین کے مطابق مجرموں کو سزا دی جائے گی۔ پاکستان اور اس کے عسکری ادارے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تاخیری حربوں اور مصنوعی پروپیگنڈے سے صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے، تو یہ ان کی سنگین غلط فہمی ہے۔ بی ایل اے اپنے ہر اعلان پر مکمل عمل درآمد کرنے کی طاقت، صلاحیت اور عزم رکھتی ہے۔

جیئند بلوچ نے مزید کہا کہ یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ پاکستانی فوج کو نہ اپنے اہلکاروں کی جانوں کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ مذاکرات کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا، تو مہلت ختم ہونے کے بعد ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ پانچ یرغمالیوں کو بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے مطابق سزا دی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے دشمن کو آخری موقع دے رہی ہے کہ وہ پروپیگنڈہ چھوڑ کر زمینی حقائق کو تسلیم کرے، مصنوعی بیانیے گھڑنے کے بجائے حقیقت کا سامنا کرے، اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ بصورت دیگر، بلوچ قومی مزاحمت کے فیصلے ناقابلِ واپسی ہوں گے، اور ہر لمحہ دشمن کے لیے مزید سنگین نتائج لے کر آئے گا۔

Share This Article