پاکستان کے محکمہ ریلوے نے بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ہاتھوں یرغمال جعفر ایکسپریس ٹرین سے بچوں اور عورتوں سمیت 80 یرغمالیوں کی رہائی کی کی تصدیق کی ہے۔
اس سلسلے میں بلوچستان ریلوے کے ایک افسر نے بی بی سی اردوکو تصدیق کی ہے کہ منگل کی دوپہر جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے مسافروں میں سے عورتوں اور بچوں سمیت کم ازکم 80 کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ انھیں ٹرین سے اتار دیا گیا تھا اور وہ اب پانیر ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ریلوے افسر نے مزید کہا کہ رہائی پانے والے افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
خیال رہے کہ اس ٹرین میں 400 سے زیادہ افراد سوار ہیں اورآزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں نے منگل کو ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین پر حملہ کیا اور وہاں واقع ایک سرنگ میں اسے روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ حکام کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید کوئی اطلاع سامنے نہیں آ رہی۔
جبکہ بی ایل اے کی جانب سے اب تک کی آخری بیان میں کہاگیا ہے کہ یرغمال اہلکاروں کی رہائی کیلئے 48 گھنٹوں کی الٹی میٹم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر اس دوران بلوچ سیاسی قیدیوں، جبری گمشدہ افراد اور قومی مزاحمتی کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا نہیں کیا گیا تو تمام جنگی قیدیوں کو بے اثر کر دیا جائے گا اور ٹرین مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔