آواران، کیچ، زامران اور تمپ میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں آواران، کیچ، زامران اور تمپ میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے چار مختلف کارروائیوں میں آواران میں تعمیراتی کمپنی کی مشینری کو نذرِ آتش، کیچ میں سی پیک روڈ پر ناکہ بندی کرکے چیکنگ کی، زامران میں موبائل ٹاور کو نذر آتش، اور تمپ میں قابض پاکستانی فورسز کو حملے میں نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ سات مارچ کی رات آٹھ بجے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے آواران کے علاقے کنیرہ میں ایک تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کیا اور وہاں موجود مشینری اور گاڑیوں کو نذر آتش کر کے تباہ کر دیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آٹھ مارچ کی رات کو ایک اور کارروائی میں، بی ایل ایف کے سرمچاروں نے کیچ کے علاقے ہیرونک اور تجابان کے درمیان سی پیک روڈ پر سات بجے سے نو بجے تک ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ اس دوران لیویز کے اہلکار بھی وہاں سے گزرے، تاہم سرمچاروں نے انہیں کسی نقصان کے بغیر جانے دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ نو مارچ کی رات آٹھ بجے سرمچاروں نے کیچ کے علاقے زامران میں نصب جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے موبائل ٹاور کی مشینری کو نذر آتش کر کے تباہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی رات نو مارچ کو 7:30 بجے سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ قلات میں قائم قابض پاکستانی فورسز کی چوکی پر گرینیڈ لانچر کے متعدد گولے داغے جو چوکی کے اندر جا گرے جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور قابض فوج کے مکمل انخلا تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔

Share This Article