سپین و اٹلی میں پاکستانی شدت پسند تنظیم کے 11 افراد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سپین کی نیشنل اور کیٹیلونیا پولیس، اور اٹلی کی پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر شدت پسندانہ کارروائیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے، لوگوں کو شدت پسند کارروائیوں کی ترغیب دینے اور ممکنہ اہداف کی نشاندہی کا الزام ہے۔

سپین کی محکمہ داخلہ کی جانب سے سات مارچ کو جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، یہ آپریشن گذشتہ سوموار (تین مارچ) کو سپین کے شہر بارسلونا اور اٹلی کے شہر پیاچینزا میں کیا گیا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں دس افراد کو بارسلونا اور ایک کو پیاچینزا سے گرفتار کیا گیا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق، حالیہ آپریشن سپین کی نیشنل پولیس کی پہلے سے جاری تفتیش کا حصہ ہے جس میں گذشتہ تین برسوں کے دوران سپین میں موجود ایک شدت پسند پاکستانی تنظیم سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل سپین کی پولیس کی جانب سے 2022 میں پانچ اور 2023 میں 14 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے سپین اور اٹلی میں ایک انتہائی منظم گروہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس نے خفیہ میسیجنگ چینلز کے ذریعے ایسی ہدایات جاری کی تھیں جس میں گروہ کے نظریے کے خلاف جانے والے لوگوں کے قتل اور سر قلم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھیں۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے اپنی اشاعتوں میں اُن شدت پسندوں کی بھی تعریف کی تھی جنھوں نے یورپ اور پاکستان میں توہین مذہب کے مبینہ ملزمان پر حملے کیے تھے۔ تفتیش سے پتا چلا ہے کہ زیرِ تفتیش ملزمان میں سے کچھ افراد نے پہلے ہی یورپ میں ممکنہ اہداف کی شناخت کرنا شروع کر دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے انسٹنٹ میسیجنگ گروپس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جن کے ذریعے اس تنظیم کے نظریے کو پھیلایا جا رہا تھا۔ ان میں سے ایک گروپ کو زیر حراست افراد میں سے ایک ملزم چلا رہا تھا جو مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ہے جہاں نہ صرف تعصب کو فروغ دیا جاتا بلکہ مستقبل میں نشانہ بنایا جانے کے لیے ممکنہ اہداف کی نشاندہی بھی کی گئی۔

تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق مبینہ طور پر ایک شدت پسند تنظیم سے ہے جس کی مالی معاونت کے لیے تنظیم کے ارکان باقاعدگی سے چندہ دیتے تھے۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 10 افراد میں سے چار ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

Share This Article