بلوچستان کے علاقے سوراب میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری دھرناضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات بعد ختم کردیا گیا۔
دھرناختم ہونے کے بعد کراچی ٹو کوئٹہ روڈ ہر قسم کے آمد و رفت کے لیے بحال ہوگئی۔
سوراب کے مقام پر دھرنا ختم ہوگیا ہے۔
لواحقین سے مذاکرات کامیاب اور کوئٹہ کراچی شاہراہ سوراب کے مقام سے تمام تر ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے ۔
دوسری جانب سوراب میں موبائل فون سروس بھی بحال کردیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ گذشتہ چھ روز سے زہری سے جبری گمشدگی کے شکار مجیب الرحمٰن ولد محمد انور، عتیق الرحمن ولد عبد قادر، محمد حیات ولد محمد عمر، حافظ سراج احمد ولد دین محمد، زاہد احمد ولد عبد الحمید، یاسر احمد ولد گل محمد، زکریا بلوچ ولد سعد اللّٰہ، نوید احمد بلوچ ولد عبد رشید، محمد شفیق بلوچ ولد محمد حیات، فضل بلوچ ولد غلام رزاق، نصر اللّٰہ بلوچ ولد محمد امین، شاہ استخان بلوچ ولد بدل خان کے لواحقین کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا۔
مظاہرین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اپنی جبری لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لئے دھرنا دئے ہوئے تھے حکام کی یقین دہانی پر ایک بار پھر دھرنا ختم کررہے ہیں، اگر مذاکرات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا تو ہم واپس احتجاج پر مجبور ہونگے اور اسکی ذمہ داری حکام پر عائد ہوگی۔
مزید برآں جبری گمشدگیوں کے خلاف اس وقت مستونگ اور قلات میں مزید دو مقامات پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔