بلوچستان کے علاقے قلات سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار 35 افراد میں سے 8 کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے۔جبکہ کوئٹہ کلی کمالو سے جبری لاپتہ ایک نوجوان 5 ماہ بعد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔
قلات سے اطلاعات ہیں کہ گذشتہ دنوں پاکستانی فورسز کی سرچ آپریشن اور گھروں میں چھاپوں کےدوران گرفتار وجبری گمشدہ کئے گئے 35 افراد میں سے 8 کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے دعوے کے مطابق 8 نوجوانوں کو پولیس تھانہ منتقل کردیا گیاہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز فورسز کے قلات سے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں و جبری گمشدگویں کے بعد ان کی بازیابی کے لیے ان کے ہلخانہ نے احتجاجاًقلات میں کوئٹہ ٹوکراچی شاہراہ کو آمدورفت کےلئے بند کردیا تھا جو ہنوز بند ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے ہمارے تمام پیارے منظر عام پر لائے جائیں جنھیں فورسز نے چھاپوں کے دوران غیر قانونی حراست میں لیکر لاپتہ کردیئے ہیں ۔
دوسری جانب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے کلی کمالو سے ایک جبری لاپتہ نوجوان پانچ ماہ بعد بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے۔
بازیاب ہونے والے نوجوان کی شناخت مزمل مری کے نام سے ہوگئی ہے۔
فیملی کا کہنا ہے کہ انہیں کوئٹہ کے علاقے کلی کمالو سریاب سے 2 اکتوبر 2024 کو فورسز نے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔