بلوچستان میں ریاستی جبر کا قہر برپا ہے،بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی جبر ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے، ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی سزائیں ایک منظم ریاستی حکمت عملی کے تحت مسلسل جاری ہے۔ بلوچ نسل کشی کے اس تسلسل میں ہزاروں نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور سینکڑوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئیں۔ گزشتہ دو مہینوں میں دو سو سے زائد افراد جبری گمشدگی اور درجنوں افراد ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے۔ بلوچستان میں ہزاروں مسخ شدہ لاشیں، جعلی مقابلے اور ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا تسلسل چل رہا ہے اور بلوچستان ریاستی جبر کی آگ میں جل رہا ہے۔

انہوںنے کہا کہ ریاست مسلسل بلوچ طلبہ کو نشانہ بنا رہی ہے گزشتہ روز قلات سے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالبعلم اشفاق بلوچ ولد خدا بخش سمیت 35 افراد کو قلات کے مختلف جگہوں پر چھاپے مار کر جبری لاپتہ کردیا اور تین سال قبل اشفاق بلوچ کے بھائی شہزاد بلوچ کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔ ریاست نہ صرف بلوچ نوجوانوں کو جسمانی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے بلکہ بلوچ قوم کے باشعور اور تعلیم یافتہ طبقے کو بھی راستے سے ہٹانے کے درپے ہے جبکہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور پنجاب، اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو جس نفسیاتی جنگ کا سامنا ہے وہ بھی اسی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ جبری گمشدگیاں، ہراساں، پروفلینگ اور تعلیمی اداروں میں ان کے لیے حالات کو ناقابل برداشت بنانا واضح کرتا ہے کہ ریاست کا تعلیمی نظام بھی بلوچ نسل کشی کی پالیسی کا ایک مضبوط ہتھیار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ اور درجنوں بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر اغوا کرکے بعدازاں جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ مشکے آواران میں چار نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کرکے ان کی لاشیں ویرانے میں پھینک دی گئیں، اس سے قبل پانچ دیگر جبری لاپتہ بلوچوں کو بھی ریاستی فورسز نے ماروائے عدالت قتل کیا اور گزشتہ ہفتے گومازی میں بھی دو بلوچ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ بلوچستان بھر میں ان مظالم کے خلاف احتجاج جاری ہے اور مختلف مقامات پر سڑکیں احتجاجاً بند کی گئی ہیں اور مظاہرین خصوصاً بلوچ خواتین، طلبہ پر ریاستی فورسز کے جانب سے تشدد کی گئی اور یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ریاست بلوچوں کی پرامن جدوجہد کو کچلنے کے لیے ہر غیر انسانی ہتھکنڈے کو جائز سمجھتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتی ہے اور ریاست بلوچ قوم کے خلاف جو منصوبے بنا رہی ہے وہ صرف غیر انسانی اور وحشیانہ ہے جو ہر محکوم قوم کو درپیش رہی ہے بلوچ قوم اس جبر و بربریت کے خلاف پرامن مزاحمت کریں اور مزاحمت ہی بلوچ کی بقا ہے۔ ہم بلوچ سیاسی کارکنان اور مظلوم خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ظلم کے خلاف مزاحمت ہی واحد راستہ ہے بلوچستان میں جاری مظالم پر خاموشی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

Share This Article