بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں بھوانی کے مقام پر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف 4 روز سے جاری دھر نا حکومتی وزیر کے مذاکرات کے بعد 15 دن کے لئے موخر کردیا گیا۔
دھرنا ختم کرنے کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھل دیا گیا۔
بلوچستان کے وزیر علی حسن زہری،ڈپٹی کمشنر حب،ایس ایس پی حب و دیگر کے ہمراہ گذشتہ شب حب میں بھوانی کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ پر جاری احتجاجی دھرنے میں پہنچے۔
مذاکرات کے پہلے مرحلے میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار بلوچ خواتین جن میں ماہ زیب بلوچ ،سیما بلوچ اور دیگر شامل تھے کو دھرنا گاہ لایا گیا جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔
مذاکرات میں بلوچستان کے وزیر علی حسن زہری،ڈپٹی کمشنر حب،ایس پی حب نے تحریری یقین دہانی کروائی کہ لاپتہ افراد کو 15 دن کے اندر منظر عام پر لایا جائیگا۔
اس موقع پر فوزیہ بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان وزیر نے 15 دن کا وقت دیا جس کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین نے رضا مندی ظاہر کی ہے۔جس کے بعد لواحقین نے کہا کہ اگر وعدہ پورا نہ ہوا تو دوبارہ احتجاج کرینگے۔
مذاکرات میں جن لاپتہ افراد کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر نہیں ہوئی تھی ان کی فوری ایف آئی آردرج کر نے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
دھرنے میں موجود منتظمین پر کوئی ایف آئی آر درج نہ کرنے اور 15 دن کے اندر دھرنے میں موجود لواحقین کے لخت جگر، نصیر جان، ندیم بلوچ، یاسر حمید، جنید حمید، احسان بلوچ، امین بگٹی اور ظفر بلوچ کو بازیاب یا منظر عام پر لا نے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
مذاکرات میں یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی اگر دئیے گئے لسٹ میں سے کوئی بازیاب یا منظر عام پر نہیں آیا تو لواحقین کو یہ حق ہے کہ وہ دربارہ روڈ پر آکر دھرنا دیں۔
دھرنا مظاہرین اور انتظامیہ کے مابین مذاکرات تحریری طور پرہونے کے بعد دھرنا کو 15 دن کے لئے موخر کردیا گیا اور شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیاگیا۔