حب: لاپتہ افراد لواحقین کے دھرنے پر پولیس کا کریک ڈاؤن، لاٹھی جارج وفائرنگ ، متعدد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بھوانی کے مقام پر جبری لاپتہ افراد لواحقین کے جاری دھرنے پر پولیس نے کریک ڈائون کر کے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس کی لاٹھی جارج ، تشدد وو فائرنگ سے خواتین و بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

کہا جارہا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سیما بلوچ، ماہ زیب بلوچ، فرزانہ، سمیرا، نرگس، امیرہ، ظفر بلوچ کی بوڑھی والدہ، کرم خان بگٹی، ظفر گیشکوری کی ضعیف ماں سمیت کئی خواتین شامل ہیں اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے جب دھرنے کو زبردستی ختم کرنے کی کوشش کی تو فوزیہ بلوچ سمیت دیگر خواتین نے دوبارہ سڑک بلاک کر کے دھرنے کو جاری رکھا۔

پولیس اور اداروں کے اس کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے پرامن دھرنے پر پولیس کی کریک ڈائون کے حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ تین روز سے حب بھوانی بائی پاس پر احتجاجی دھرنا جاری ہے، جہاں 6 متاثرہ خاندانوں نے مرکزی سڑک بلاک کر کے اپنا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، کیونکہ حکام صرف جھوٹی یقین دہانیاں کرتے ہوئے سڑک کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج صبح سویرے، سویلین کپڑوں میں ملبوس مردوں نے جو حکام کی طرف سے بھیجے گئے تھے، نے مظاہرین کے خلاف تشدد کا سہارا لیا، مردوں اور عورتوں دونوں پر حملہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد، خواتین کانسٹیبلوں سمیت پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلا کر اور لاٹھی چارج کرکے حملہ بڑھا دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ سیما بلوچ اور مہزیب بلوچ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان ثابت قدم رہتے ہیں، اپنے پیاروں کو مسخ شدہ لاشیں بننے یا ریاستی فورسز کے ہاتھوں ہونے والے مقابلوں میں مارے جانے سے انکار کرتے ہیں۔ کریک ڈاؤن کے باوجود حب میں دھرنا بدستور جاری ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچ نسل کشی کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور پوری قوم پر زور دیا ہے کہ وہ انصاف کی جدوجہد میں ان مظلوم خاندانوں کا ساتھ دیں۔

جبکہ فیملی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی لسبیلہ ریجن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے پولیس کریک دائون کے کے باوجود فوزیہ بلوچ سمیت دیگر خواتین نے دوبارہ روڈ بلاک کرکے دھرنا جاری رکھا۔ بلوچ عوام سے گزارش ہے کہ وہ فوری طور بھوانی پہنچ جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پولیس اور اداروں کی اس گھناؤنی حرکت نے جنہوں نے بلوچ ماؤں اور بہنوں پر لاٹھی چارج کرکے ریاست کی فاشسٹ رویہ جو پچھلے سات دہائیوں سے بلوچ پر ظلم اور جبر کررہا ہے۔

بیان کے آخر میں کہا کہ پولیس اداروں کے اس کریک ڈاؤن کے خلاف حب کی عوام اپنی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ اور پورے حب میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں۔ تاجر برادری سے گذارش ہے کہ وہ لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کال پر اپنی دکانیں، بازار اور ہوٹلیں بند کریں۔

Share This Article