کوئٹہ پریس کلب پرپولیس کا دھاوا، متعدد اساتذہ گرفتار، یہ آزادی اظہار پر حملہ ہے،صحافتی تنظیم

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پولیس نے سنیچر کی صبح پریس کلب پر دھاوابول کرمتعدد اساتذہ کواس وقت گرفتار کرلیا جب وہ پریس کانفرنس کےلئے پہنچے تھے ۔

پولیس حکام کے دعوے کے مطابق دو روز کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی پرمجموعی طور پر 32 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سنیچر کی صبح پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد پریس کلب کے باہر جمع تھی جنھوں نے پریس کلب کے باہر اور اندر سے امیدواروں کو گرفتار کیا۔

امیدواروں کے مطابق وہ گزشتہ روز ہونے والی گرفتاریوں کے خلاف ہنگامی پریس کانفرنس کرنے آئے تھے لیکن پولیس اہلکاروں نے انہیں پریس کلب کے باہر اور اندر سے گرفتار کرلیا۔

گزشتہ روز پولیس نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

ایس یس پی آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق کوئٹہ شہر میں دفعہ 144نافذ ہے جس کے تحت شاہراہوں پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہراہوں پر احتجاج کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے سے عام لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس پر ہم نے مظاہرین کو کہا کہ آپ لوگ کسی ایسے مقام پر احتجاج کریں جہاں عام لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے یہ بات نہیں مانی اور اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے پر اصرار کیا جس کے بعد پولیس کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 32 مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا۔

بلوچستان میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی ہیں۔ اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان بھر میں دو ہزار سے زائد اسکول بند ہیں۔

سابق حکومت کے دور میں اساتذہ کی 9 ہزار خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز لیے گئے تھے۔

بعض امیدواروں نے ٹیسٹ اور انٹرویوز میں شفافیت نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے ٹیسٹ اور انٹرویوز کے نتائج کو منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے کامیاب قرار دیئے جانے والے امیدواروں کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کا حکم جاری کر دیا تھا۔

لیکن ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تقرری کے احکامات جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

تقرری کے احکامات پر عمل میں تاخیر پر جمعرات کو کامیاب ہونے والے امیدواروں نے ایک مرتبہ پھر شدید بارش کے باوجود بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج کیا تھا۔

وہ گزشتہ روز دوبارہ کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے احاطے سے اسمبلی کے باہر احتجاج کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان کو جانے نہیں دیا اور کچھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

سنیچر کو پریس کلب کے باہر دوبارہ جمع ہونے پر کچھ امیدواروں کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کےدھاوے اور اساتذہ کی گرفتاری کو آزادی اظہار پر حملہ قراردیا ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب نے کوئٹہ پولیس کی جانب سے پریس کلب کے اندر گھس کر ایس بی کے اساتذہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے اپنےمشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس افسران کو فوری معطل کرکے تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

صحافیوں نے اپنے بیان میں اس اقدام کو ناقابلِ برداشت اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ضلعی انتظامیہ کے بعد اب پولیس نے بھی صحافیوں کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صحافیوں نے احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو سخت احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور پولیس پر عائد ہوگی۔

Share This Article