9 فیملیز کا اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کیلئے 28 فروری کو شاہراہیں بند کرنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں سے متاثرہ 9 خاندانوں نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو کوئٹہ ٹو کراچی شاہراہ کومختلف مقامات پر بند کرنے کا اعلان کیا۔

ان خاندانوں کا تعلق لاپتہ مجیب الرحمان بوبک ولد محمد انور، عتیق الرحمن بوبک ولد عبد القادر،محمد حیات مٹازئی ولد محمد عمر،حافظ سراج احمد پندرانی ولد دین محمد ،زاہد احمد ولد عبدالحمید موسیانی زھری ،یاسر احمد ولد گل محمد موسیانی زھری،زکریا والد سعد اللہ ،نوید احمد ولد عبد الرشید موسیانی اور محمد شفیق والد محمد حیات سے ہے جنہیں مختلف اوقات اور مختلف مقامات سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

ان تمام لاپتہ افراد کے خاندانوں نے کہا کہ ہمارے پیاروں کو 27 فروری تک بازیاب نہیں کیا گیا تو 28 تاریخ کو قومی شاہراہ کو مختلف مقامات پر بلاک کریں گے۔

واضع رہے کہ مجیب الرحمن بوبک ولد محمد انور کو9جنوری 2025 کو زہری ڈاک رحیم آباد سے، عتیق الرحمن بوبک ولد عبد القادر کو13 جنوری 2025 کو ملگزار خضدار سے، محمد حیات مٹازئی ولد محمد عمر کو18 فروری 2025 کو زہری ڈاک رحیم آبادسے ، حافظ سراج احمد پندرانی ولد دین محمد کو نورگامہ زہری سے ،زاہد احمد ولد عبدالحمید موسیانی زھری کو 10 اکتوبر 2022 کو سردار دودا خان اسٹیڈیم زھری سے ،یاسر احمد ولد گل محمد موسیانی زھری کو5جون 2023 کوعلاقہ بلبل زھری ضلع خضدار سے ،زکریا ولد سعد اللہ تحصیل زہری ضلع خضدار کو30 اگست 2021 کو پنجگور سے، نوید احمد ولد عبد الرشید موسیانی ساکن بلبل زھری کو 29 اپریل 2023 کو پیر عمر خضدار سے جبکہ محمد شفیق والد محمد حیات تحصیل زہری ضلع خضدار کوگیدان ھوٹل سے لاپتہ کیا گیاہے۔

واضع رہے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ گذشتہ دو دنوں سے بند رہی جہاں جبری لاپتہ ظہور سمالانی کی فیملی و بی وائی سی نے مختلف مقامات پر روڈ پر دھرنا دیکر بندکیاہوا تھا جس سے ٹریفک مکمل معطل ہوگئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہوگئیں جبکہ ہزازروں افراد پھنس کر رہ گئے تھے۔

آج انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات اور ظہور سمالانی کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم کردیا گیااور شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔

Share This Article