پاکستانی فورسز نے کراچی سے 2بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کئے جانے والے نوجوانوں کی شناخت یاسر علی ولد سبزل علی، سکنہ جمعہ ملیر گوٹھ کراچی اور صابر ولد علی دوست سکنہ گریشہ خضدار کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
کراچی ملیر کے رہائشی طالبعلم یاسر بلوچ 24 اور 25 فروری 2025 کی رات کو گلشن اقبال میں اپنے دوستوں سے ملنے کے بعد رات کو ساڑھے دس بجے کے قریب واپس اپنے گھر جاتے ہوئے راستے سے لاپتہ ہو گئے ہیں ۔
یاسر بلوچ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں میڈیا سائنسز کے طالبعلم ہیں ۔
سوموار اور منگل کی درمیانی رات ساڑھے دس بجے اپنے دوستوں سے ملنے کے بعد گلشن اقبال سے گھر کی طرف نکلے تھے لیکن راستے سے لاپتہ ہو گئے ہیں ۔
فیملی اور دوستوں سے ان کا رابطہ اس رات سے منقطع ہو گیا ہے ۔
فیملی ذرائع یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انہیں دیگر بلوچ طلباء کی طرح جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ۔
انہوں نے اپیل کی ہے کہ یاسر کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے اور انہیں انکی خیر خبر دی جائے ۔
اسی طرح کراچی کے علاقے لیاری سے فورسز نے خضدار گریشہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان صابر ولد علی دوست کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز نے انہیں حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے ۔
لاپتہ صابر کے لواحقین نے انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔