پاکستانی فورسز کے مظالم کے خلاف بلوچستا ن کے ساحلی شہر و سی پیک مرکزگوادرمیں خواتین نے کوسٹ گارڈ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور سرحدی روزگار کھولنے کا مطالبہ کیا۔
مطاہرین نے ایم پی اے گوادرمولانا ہدایت الرحمان پر شدید تنقیدکی اور روزگار پر قدغن کیخلاف غم و غصے کا اظہار کیا۔
سید ہاشمی ایونیو پر پاکستان کوسٹ گارڈ ہیڈکوارٹر کیمپ کے سامنے خواتین احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔
احتجاجی مظاہرین کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو فیول سمیت اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔
احتجاجی دھرنے سے متاثرہ خاتون کے مطابق کوسٹ گارڈ نے ہمارے روزگار پر قدغن لگایا ہے ، ہم کیا کریں کہاں جائیں یہ کوسٹ گارڈ وبال جان بن چکی ہے ۔ یہاں کا کاروبار تیل سے وابسطہ ہے جبکہ ادارے اس پر بندش لگاکر بلوچ عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا رہے ہیں ۔