پسنی : جبری گمشدگیوں کیخلاف کوسٹل ہائی وے بند، دھرنا جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر وضلع گوادر کے تحصیل پسنی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں شکار نوجوانوں کے لواحقین اور بی این پی کی جانب سے مکران کوسٹل ہائی وے کو پسنی زیروپوائنٹ کے مقام پر دوبارہ دھرنا دیکر بند کردیا گیا ہے۔

دھرنا میں خواتین ،بچے اور سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ورکر بھی موجود ہیں۔

مکران کوسٹل ہائی وے بند ہوجانے کی وجہ سے روڈ کے دونوں طرف سینکڑوں مسافر بسیں کھڑی ہیں جبکہ متعدد مسافر روڈ کے دونوں جانب روڈ کھلنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

مظاہرین سے انتظامی افسران اسسٹنٹ کمشنر پسنی مہیم خان گچکی ،ڈی ایس پی پولیس زاہد حسین اور ایس ایچ او پسنی شکیب ارسلان اور ایس ایچ او صدر تھانہ خالد دشتی نے مذاکرات کیے تاہم لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پہلے بھی مذاکرات کرکے اُنکے دھرنا کو ختم کرایا گیا لیکن اُٹھائے گئے افراد کو نہیں چھوڑا گیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اُٹھائے گئے تمام افراد بے گناہ ہیں۔

مظاہرین نے بتایا کہ جب تک پسنی سے اُٹھائے گئے نوجوانوں کو نہیں چھوڑا جاتا مکران کوسٹل ہائی وے پر دھرنا جاری رہے گا۔

لاپتہ نوجوانوں میں بی این پی پسنی زون کے پبلی کیشن سیکرٹری وحید مجید اور ان کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ان کے پیاروں کو گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا ہے جن کے لئے پانچ روز پہلے بھی پسنی زیرو پوائنٹ پر کوسٹل ہائی وے کو بلاک کردیا تھا جبکہ ضلعی انتظامیہ کے یقین دہانی پر دھرنے کو چار روز کے لیے مؤخر کر دیا لیکن ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے باوجود ان کی بازیابی نہیں ہوسکی۔

Share This Article