بلوچستان کے ساحلی شہر وضلع گوادر کے تحصیل پسنی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں شکار نوجوانوں کے لواحقین اور بی این پی کی جانب سے مکران کوسٹل ہائی وے کو پسنی زیروپوائنٹ کے مقام پر دوبارہ دھرنا دیکر بند کردیا گیا ہے۔
دھرنا میں خواتین ،بچے اور سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ورکر بھی موجود ہیں۔
مکران کوسٹل ہائی وے بند ہوجانے کی وجہ سے روڈ کے دونوں طرف سینکڑوں مسافر بسیں کھڑی ہیں جبکہ متعدد مسافر روڈ کے دونوں جانب روڈ کھلنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
مظاہرین سے انتظامی افسران اسسٹنٹ کمشنر پسنی مہیم خان گچکی ،ڈی ایس پی پولیس زاہد حسین اور ایس ایچ او پسنی شکیب ارسلان اور ایس ایچ او صدر تھانہ خالد دشتی نے مذاکرات کیے تاہم لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پہلے بھی مذاکرات کرکے اُنکے دھرنا کو ختم کرایا گیا لیکن اُٹھائے گئے افراد کو نہیں چھوڑا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اُٹھائے گئے تمام افراد بے گناہ ہیں۔
مظاہرین نے بتایا کہ جب تک پسنی سے اُٹھائے گئے نوجوانوں کو نہیں چھوڑا جاتا مکران کوسٹل ہائی وے پر دھرنا جاری رہے گا۔
لاپتہ نوجوانوں میں بی این پی پسنی زون کے پبلی کیشن سیکرٹری وحید مجید اور ان کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ان کے پیاروں کو گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا ہے جن کے لئے پانچ روز پہلے بھی پسنی زیرو پوائنٹ پر کوسٹل ہائی وے کو بلاک کردیا تھا جبکہ ضلعی انتظامیہ کے یقین دہانی پر دھرنے کو چار روز کے لیے مؤخر کر دیا لیکن ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے باوجود ان کی بازیابی نہیں ہوسکی۔