بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے مزید 2 نوجوانوں کوحراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کئے جانے والے نوجوانوں کی شناخت ندیم ولد محمد امین اور اصغر قمبرانی کے ناموں سے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل گذشتہ روزبروز بدھ 19 فروری کو کوئٹہ سے ظہور احمد سمالانی نامی شخص کو لاپتہ کیا گیا تھا۔
ندیم امین اور اصغر قمبرانی کی جبری گمشدگی کی تصدیق وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ندیم ولد محمد امین سکنہ مشکے ضلع آواران کو رات عیسی نگری کوئٹہ سے اور اصغر قمبرانی کو دوپہر ڈیڑھ بجے انکے گھر واقع کلی قمبرانی کوئٹہ سے فورسز نے غیر قانونی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں گھروں پر چھاپہ مارکر خواتین و بچوں کو زدوکوب کیا اور ندیم ولد محمد امین کو حراست میں لیکر چلے گئے جس کا کوئی خبرنہیںہے ۔
ذرائع کے مطابق گذشتہ رات ساڑھے ایک اور دو بجے کے درمیان خفیہ اداروں کے اہلکار وردی میں ملبوس تھے اور ندیم بلوچ کو زبردستی عیسیٰ نگری کوئٹہ سے لاپتہ کر دیا ہے۔
ندیم کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ سیکنڈ ائیر کا طالب علم ہے۔
دوسری جانب گذشتہ شب فورسز نے کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی کا گھیراؤں کرکے گھروں پر چھاپے مارے، اس دوران خواتین سمیت دیگر کو زدوکوب کیا گیا اور اصغر قمبرانی کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔