بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں بارکھان میں 7 بس مسافروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کر تے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کے 7 اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے بارکھان میں شناخت کے بعد قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے 7 اہلکاروں کو گرفتار کرکے ہلاک کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی خفیہ معلومات کی بنیاد پر بارکھان میں ایک ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے دشمن کے 7 اہم مخبروں کو شناخت کے بعد گرفتار کرلیا۔ دشمن کے مذکورہ خفیہ ایجنٹ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھیس بدل کر مخبری و بلوچ نسل کشی کے گھنائونے جرائم کا مرتکب پائے گئے۔ جن کی مکمل شناخت کے بعد انہیں ہلاک کردیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران، سرمچاروں نے گذشتہ شب دس بجے بارکھان کے علاقے رڑکن میں نیو کوئٹہ پشین بسم اللہ ہوٹل کے مقام پر ناکہ بندی کی اور گاڑیوں کی سنیپ چیکنگ کا آغاز کیا۔ اس دوران سرمچاورں نے مطلوبہ کوچ کو روکا، جس میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکار سوار تھے، سرمچاروں نے مذکورہ تمام 7 اہلکاروں کو شناخت کے بعد ہلاک کردیا، جن میں سابق ڈی ایس پی عاشق حسین بھی شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مطلوبہ ریاستی دہشتگرد متعدد گھنائونے جرائم جیسے مخبری، بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور بلوچ قومی مفادات کو زک پہنچانے میں ملوث تھے، اور بلوچ لبریشن آرمی کو مطلوب تھے۔ جنہیں بالآخر زراب کی معلومات کے بنیاد پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا اور بعد از شناخت مجرمان کے سزائے موت پر فوری عملدرآمد کیا گیا۔
ترجمان جیئند بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دشمن فوج کے تمام مخبر و ایجنٹوں کو وارننگ جاری کرتی ہے کہ وہ اپنے بلوچ کش کردار سے دستبردار ہوکر دشمن فوج کی معاونت سے باز آجائیں بصورت دیگر بلوچ نسل کشی میں شریک و معاون تمام کرداروں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔