بلوچستان کے ضلع بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی بس کے 7 مسافروں کو شناخت کے بعدفائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔
یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب رڑکن کے علاقے میں پیش آیا۔
ڈپٹی کمشنر بارکھان وقار خورشید کے مطابق اس علاقے میں نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی ایک مسافر بس پر فائرنگ کرکے اس کو روکا۔
انہوں نے کہا کہ سافر بس کوبارکھان کی تحصیل رکھنی میں ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی شاہراہ پر نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بس کے رکنے کے بعد مسلح افراد بس میں داخل ہوئے اور شناخت کے بعد 7 افراد کو بس سے نیچے اتار کر فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق پنجاب سے تھا۔
کہا جارہا ہے کہ مسلح افرادنے بس نہ روکنے پر بس کے ٹائروں پر فائرنگ بھی کی۔
واقعہ کے بعد قریبی علاقوں سے لیویز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے کی طرف روانہ کی گئی۔
واقعہ کے بعد لورالائی، کنگری اور قریبی علاقوں کے مختلف مقامات پر مسافر بسوں اور گاڑیوں کو انتظامیہ نے احتیاطاً روک دیا ہے، جبکہ مقتولین کی لاشیں رکھنی اسپتال منتقل کرکے وہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
رواں سال پنجاب اور بلوچستان کے درمیان شاہراہ پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔
اس سے قبل گذشتہ سال اگست کے مہینے میں بارکھان سے متصل ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ ہاشم میں اسی شاہراہ پر گاڑیوں سے 22 مسافروں کو اتار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
ان میں سے 20 کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
اور اس کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے قبول کرچکی ہے۔
اب تک مذکورہ واقعہ کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ۔