بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں آر سی ڈی کونسل کے زیر اہتمام جاری چار روزہ کتاب میلہ اختتام پزیر ہوگیا۔
13 تا 16 فروری تک جاری رہنے والے کتب میلے میںبلوچستان وپاکستان بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، مصنفین اور شعرا نے شرکت کی۔
چار روز جاری رہنے والے کتاب میلہ میں 29 اسٹالز لگائے گئے تھے جہاں پر 28 لاکھ 66 ھزار 8 سو 50 پچاس روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں جس میں گیارہ بلوچی کتابوں کے اسٹالز بھی شامل تھے۔
ان میں سے 10 لاکھ 86 ہزار روپے کی بلوچی اور 18 لاکھ روپے کی اردو اور انگریزی زبانوں کی کتابیں فروخت ہوئیں۔
کتب میلے میں فروخت ہونے والی کتابوں میں ادب، ناول اور شاعری کے مجموعے بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ 2023 میں گوادر کتب میلے میں 18لاکھ روپے کی کتابیں فروخت ہوئی تھیں۔
اس کے علاوہ کتب میلے میں مختلف ادبی نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ کتب میلے میں علاقائی موسیقی اور ثقافت کے رنگ بھی نظر آئے۔
کتاب میلے میں بلڈ ڈونیشن کیمپ بھی لگایا گیا جہاں 70 کے قریب لوگوں نے اپنے خون کے عطیات دیئے۔
نواں گوادر کتاب میلے اختتامی تقریب کے مہمان خاص ایم پی اے گْوادر مولانا ھدایت الرحمن بلوچ تھے۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے مولانا ھدایت الرحمن بلوچ، سیکریٹری فشریز انور شفقت شاھوانی، انوارمنٹل سماجی کارکن سفینہ فراز، آر سی ڈی کونسل گوادر کے سرپرست اعلی خدابخش ھاشم اور صدر ناصر رحیم سہرابی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں سے انسانوں کا تعلق خدائی فیصلہ ہے اس سے انسان کا خدا سے جڑجاتا ہے۔ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کرے لیکن تین چیزوں سے انسان، قلم اور کتاب سے باہر نہیں جاسکتا۔ کتاب آخرت میں بھی انسان کو پڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر کے بورڈ اور رسل و رسائل کی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود قلم کی اہمیت مسلمہ ہے اور رہے گی، کتاب ہمیں شعور سے آراستہ کرتا ہے، صحیح اور غلط میں تمیز کرنا سکھاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اہل بلوچستان کو شروع سے قلم اور کتاب سے تعلق ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچ جاہل اور ان پڑھ ہیں ان کا نقطہ نظر باطل ہے اگر بلوچ جاہل ہوتے تو وہ لاکھوں کی کتاب نہیں خریدتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہر شعبہ میں تعلیم یافتہ اور قابل لوگ موجود ہیں لیکن ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہر شعبہ میں با صلاحیت لوگ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آر سی ڈی کونسل گْوادر اور اس کی انتظامیہ شاندار کتاب میلے کے انعقاد پر خراج کا مستحق ہے یہ ہر لحاظ سے ایک شاندار ایونٹ رہی ہے جس میں علم و ادب اور دیگر امور پر لوگوں کو آگاہی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کتابوں کی اتنی بڑی تعداد میں فروخت ہونا خوش آئند ہے جو مکران کے لوگوں کی علمی اور شعوری بالیدگی کی غمازی کرتی ہے جو حوصلہ افزا ہے گوادر کے نوجوانوں کا کتابوں سے شوق خوش ائند ہے اب ان کی ترقی کا کوئی بھی راستہ نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جو بلوچ کو دھشت گرد تصور کرتے ہیں اس کتاب میلے نے ان کے تصور کو رد کیا ہے یہ کتابوں سے محبت کرنے والوں کی سرزمین ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے اپنے ذہن میں جو سوچ اختیار کی ہے وہ اپنی کوشش جاری رکھیں تعلیم کو اپنا شعار بنائیں کامیابی ان کے قدم چومے گی۔
انہوں نے کہاکہ اس کتاب میلے کا تھیم موسمیاتی تبْدیلیوں کے بارے میں تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے گوادر بھی متاثر ہے، بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسی تیار ہے جس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ہر طبقہ اپنا کردار ادا کرے تاکہ اس کے اثرات کم سے کم ہوں۔
اختتامی تقریب چندن ساچ، عمر فاروق اور نیاز ابراہیم نے بھی خطاب کیا۔
اختتامی تقریب کے نظامت کے فرائض رحمت اللہ نے اداکئے۔