انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی ریلوے سٹیشن پر اچانک امڈ آنے والی بھیڑ میں بھگدڑ مچنے سے 18 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو تقریباً نو بجے پیش آیا۔
لوک نایک (ایل این جی پی) ہسپتال کی سی ایم ایس رِتو سکسینہ نے 18 لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مرنے والوں میں تین بچے اور دس خواتین شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور وہ ریلوے کے وزیر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی صارفین کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد چھپائی جا رہی ہے جبکہ بہت سے اخباروں اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دہلی کے ایل این جی پی ہسپتال کے اندر میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
وزارتِ ریل کے ترجمان دلیپ کمار کے مطابق کہ ’رات کو پریاگ راج ایکسپریس اور مگدھ ایکسپریس ٹرین کے لیے بہت سے مسافر آئے اور سب نے سوچا کہ یہ آخری ٹرین ہے اور وہ اسی سے روانہ ہوں گے۔
ترجمان کے مطابق ’پریاگ راج ایکسپریس میں سوار ہونے کے لیے بھیڑ امڈ آئی ہے، باقی معلومات سی سی ٹی وی دیکھنے کے بعد سامنے آئیں گی۔ ڈی جی آر پی ایف اور چیئرمین ریلوے بورڈ سٹیشن پر ہیں، وہ دیکھیں گے کہ کیا ہوا، ہم نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔‘