بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پنجگور میں لاپتہ حیات سبزل کی ماورائے عدالت قتل اورتربت میں ٹیچرشریف زاکر پر قاتلانہ حملے کی مذمت کر تے ہوئے ا سے بلوچ نسل کش اقدام قرار دیا ہے۔
انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے کیچ میں ریاستی جبر اور فسطائیت اپنے عروج پر ہے۔ آج دو افسوسناک واقعات پیش آئے۔ جبری گمشدگی کا شکار حیات سبزل اپنے اہل خانہ کے احتجاج اور رہائی کی سرکاری یقین دہانیوں کے باوجود مسخ شدہ پایا گیا۔ اس دوران نجی سکول کے سربراہ سر شریف کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ غور طلب ہے کہ سر شریف کو مسلسل ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ شروع میں اسے مسلسل دھمکیوں اور ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر، ریاستی اداروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، خواتین اور بچوں پر حملہ کیا۔ بعد ازاں ان کے گھر پر بمباری کی گئی، اس کے بچے کو زبردستی لاپتہ کر دیا گیا اور آج اسے گولی مار کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔
انہوں نے سوال اٹھا یا کہ کیا یہ بلوچ نسل کشی نہیں؟ کیا یہ ظلم اور فاشزم کی بدترین شکل نہیں؟ کیا یہ ریاست کی بلوچ عوام سے نفرت کی انتہا نہیں؟