بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور کوسٹ گارڈز کو دو مختلف حملوں میں نشانہ بناکر 5 اہلکار ہلاک کردیئے۔
انہوں نے کہاکہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے پسنی شہر میں کوسٹ گارڈز کے مرکزی کیمپ کے حفاظتی چوکیوں پر تعینات اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جبکہ اس دوران گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے گئے جو کامیابی سے اپنے اہداف پر لگے۔ حملے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے منصوبہ بندی کے تحت بنگلہ بازار کے مقام پر قابض فوج کے راستے پر آئی ای ڈی نصب کیا۔ حملے کے بعد مذکورہ مقام پر قابض پاکستانی فوج کی تین گاڑیوں پر مشتمل گشتی پارٹی پہنچی، جس کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، دشمن فوج کی ایک گاڑی دھماکے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں پانچ دشمن اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد بزدل دشمن فوج نے عام آبادیوں پر شدید فائرنگ کی جبکہ میڈیا پر اپنے نقصانات چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے سرمچاروں کے جانی نقصان کا دعویٰ کیا۔ حواس باختہ پاکستانی فوج نے رات گئے متعدد شہریوں کو جبری گمشدگیوں کا بھی نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ قابض پاکستانی فوج و اس کے شراکت داروں سے بلوچ قوم پر ہونے والے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا۔