انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔
کشمیر میں برسوں تک حالات پرُسکون رہنے کے بعد اب ایک بار پھر فوج اور پولیس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔
جموں کے کٹھوعہ ضلع میں بھِلاور گاوٴں کے مکھن دین نے بدھ کے روزپولیس حراست کے بعد خود کشی کرلی جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔
مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ وہاں کے رہنے والے 25 سالہ نوجوان مکھن دین پر پولیس نے حراست کے دوران تشدد کیا، جس کے بعد انھوں نے خودکشی کر لی۔
مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس اور فورسز نے گشت میں اضافہ کیا ہے اور علاقے میں انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا ہے۔
کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیشور سنگھ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مکھن دین پر حراست کے دوارن تشدد کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مکھن نے خودکشی سے پہلے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں انھوں نے حراستی تشدد اور ان سے زبردستی اقبالیہ بیان لینے کی تفصیل بتائی ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مکھن دین کے چاچا سوار دین فی الوقت پاکستان میں ہیں جو فوج پر کئی حملوں کے منصوبہ ساز ہیں۔ پولیس کے مطابق مکھن کے فون سے کئی قابل اعتراض رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔
جمعرات ایک اور واقعے میں بارہمولہ کے 35 سالہ ٹرک ڈرائیور وسیم مجید کے میوے سے بھرے ٹرک پر فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے۔
فوج کا دعویٰ ہے کہ چیک پوائنٹ کے قریب وسیم کو رُکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ بھاگ نکلے جس کے بعد فوج نے ان کا پیچھا کیا اور گاڑی کے پہیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وسیم زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔
وسیم کے اہل خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے فوج اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو سامنے لایا جائے تاکہ فوجی دعوؤں کی تصدیق ہو سکے۔
پولیس اور سوِل انتظامیہ نے الگ الگ سطح پر دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ پانچ روز کے اندر رپورٹ پیش کی جائے گی۔
ان واقعات پر سیاسی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں کہا: ’مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ کٹھوعہ میں مبینہ حراستی تشدد کے بعد مکھن دین نے خودکشی کی ہے اور بارہمولہ میں وسیم مجید فوج کی فائرنگ سے ایسے حالات میں ہلاک ہوگئے جو ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہیں۔‘
عمر نے اعلان کیا کہ انھوں نے ان واقعات سے متعلق انڈین حکومت سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مقامی آبادی کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ لیکن ایسے واقعات سے لوگ (سسٹم سے) دُور ہوجاتے ہیں۔ جموں کشمیر میں تب تک نارمل حالات ممکن نہیں جب تک مقامی آبادی کا تعاون حاصل نہ ہو۔‘
بارہمولہ کے واقعہ میں انتظامیہ کے علاوہ فوج نے بھی اپنی سطح پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاہم سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور ان کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی نوجوان رہنما التجا مفتی نے فوج کے دعوؤں پر تنقید کی ہے۔
انھوں نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا: ’حیرت ہے کہ 23 کلومیٹر تک گاڑی کا پیچھا کیا گیا اور بعد میں جب ٹرک کے ٹائر پر فائر کیا گیا تو گولی سیدھے ڈرائیور کو لگی۔ حیرت ہے کہ کٹھوعہ میں عام شہری کی ہلاکت کے بعد اسے عسکریت پسندوں کا کارکن قرار دیا گیا۔ کیا کشمیری زندگیاں اتنی سستی ہیں۔ آپ کب تک بےلگام اختیارات کے تحت ہر شخص کو مشتبہ کہتے رہیں گے۔‘
دریں اثنا پولیس نے عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، اور وارننگ دی ہے کہ ’امن و قانون میں خلل ڈالنے والوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔‘
واضح رہے کئی برس تک حالات پرسکون رہنے کے بعد ان دو واقعات سے جموں اور کشمیر دونوں صوبوں میں حالات ایک بار پھر سے کشیدہ ہیں۔