بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں نوشکی اور دکی حملوں میں پاکستانی فوج کے 5 اہلکار وں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نوشکی اور دکی میں تین مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں 5 دشمن اہلکار ہلاک اور 6 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
انہوںنے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے آج دوپہر کے وقت نوشکی شہر کے نواح میں غریب آباد بائی پاس کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے تین گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، دشمن فوج کی ایک گاڑی براہ راست حملے کی زد میں آئی۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے دشمن فوج کو خودکار ہتھیاروں اور گرینیڈ لانچر سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک دشمن اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہوگئے۔
ترجمان نے کہا کہ گذشتہ شب بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نوشکی ہی میں زور آباد کے قریب مرکزی شاہراہ پر بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار میں شریک پانچ گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے تین گاڑیوں کو نذرآتش کرکے تباہ کردیا جبکہ دو گاڑیوں کو فائرنگ کرکے ناکارہ کردیا۔
دریں اثنا، گذشتہ شب بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے دکی میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا۔
انہوںنے کہا کہ سرمچاروں نے پاکستانی فوج کے 12 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو بھاری و خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 ر دشمن اہلکار ہلاک ہوگئے۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔