بلوچستان کے علاقے خاران میں گذشتہ شب رات گئے ایک گھر پر دستی بم حملے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا مغوی مختاراحمد مینگل کے گھر پر ہوا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب رات گئے 2 بجے کے وقت مغوی مختیار کے گھر پر دستی بم سےحملہ ہوا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا کہ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ سوئے ہوئے لوگ جاگ گئے اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
دھماکے سے کوئی نقصان نہیں ہوسکا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے لوگ تھے جو فیملی کو تاوان وصولی کیلئے دبائو اور ہراساں کر رہے تھے۔
علاقائی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے دستی بم حملے کا مقصد مغوی کے اہل خانے کو ڈرا دھمکا کر ان سے بڑا معاوضہ وصول کیا جاسکے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق مختار مینگل کی رہائی کے لیئے 8 کروڑتاوان طلب کیا گیاہے۔
کہا جارہا ہے کہ ڈیتھ اسکواڈ کی ڈر کی وجہ سے علاقہ مکینوں نے متاثرہ خاندان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مغوی مختار کے گھر پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل بھی ایک حملہ ہوا تھا، جس سے اس کے اہل خانہ معجزاتی طور پر بچ گئے تھے۔
یاد رہے کہ مختار احمد مینگل جو ایک زمیندار اور تاجر ہےکو خاران سے 15 جولائی 2023 کو اغوا کیا گیاتھا جو تاحال لاپتہ ہے۔