بلوچستان کے علاقے خاران میں گزشتہ دن خاران کراچی مین شاہراہ سے با اثر مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہونے والے خاران سراوان کے رہائشی کاروباری شخصیت زمیندار مختیار احمد مینگل کی اب تک عدم بازیابی اور انتظامیہ کی غفلت کیخلاف اُنکے لواحقین اہلیان سراوان کا خاران کے سیاسی پارٹیز علماء کرام اور چیئرمین ٹاون کمیٹی کے چیئرمین میر نورالدین نوشیروانی کے ہمراہ خاران پریس کلب میں پُرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ مختیار احمد مینگل پیشے کے لحاظ سے دوکاندار اور زمیندار ہے۔ان کا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی مسئلہ یا دشمنی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختیار احمد کو دن دہاڑے اغواء کرنا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے 48گھنٹے گزرنے کے باوجود بازیابی کیلئے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے جو تشویشاناک عمل ہے جس کی پور زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایم پی اے خاران اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بازیابی کو ممکن بنانے کیلئے جرگے میں دو دن کا مہلت مانگا گیا تھا اور آج رات دس بجے تک انکا الٹی میٹم ختم ہو جائیگا اگر آج رات تک مغوی مختیار احمد کو بازیاب نہیں کیا گیا تو کل لواحقین اور خاران کے عوام چیف چوک پر اپنا رد عمل دیگا اور عوام سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ مختیار احمد کا مسئلہ صرف اسکے اپنے گھرانے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ پورے علاقے کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ کل ہم خاران کے عوام بازار پنچایت زمیندار ایکشن کمیٹی سول سوسائٹی اور آل پارٹیز سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر کل تک جو بھی فیصلہ ہوا پہیہ جام ہڑتال یا دھرنے اور احتجاج کا عوام کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔