کوئٹہ : سنجدی میں کوئلے کی کان میں پھنسے مزید 6 مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں پھنسے مزید 6 مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئیں۔

اب تک 10 مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے۔

ا س سے قبل 4 کان کنوں کی لاشیں جمعہ کےروز نکالی گئی تھیں۔

چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق کوئلے کی کان میں اب بھی مزید 2 کان کنوں کی لاشیں پھنسی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

دریں اثنا محکمہ مائنز نے کان کے مالک کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

چیف مائنزانسپکٹرنےڈپٹی کمشنرکومقدمہ درج کرنے کے لیے خط ارسال کردیا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کول مائنز کمیٹی نے حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔

واضح رہے کہ سنجدی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کا واقعہ جمعے کے روز پیش آیا تھا۔

واقعے کے بعد 4 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی تھیں جبکہ دیگر کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

متاثرہ کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو کے مطابق کان کن 4 ہزار 200 فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے تھے،کان کے داخلی دروازے سے ملبےکو بھاری مشینری کےذریعے ہٹایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کان میں بجلی کی ایک ہی لائن تھی جوحادثے میں تباہ ہوگئی۔

زندہ بچنے والے کان کنوں کا دعوی تھا کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا۔

بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں اکثر حادثات ہوتے ہیں جہاں کان کے مالکان حفاظتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور مزدور خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ سال 46 حادثات میں 82 کان کن ہلاک ہوئے۔

گزشتہ سال جون میں کوئٹہ سے 50 کلومیٹر دور سنجدی کے علاقے میں کوئلے کی کان کے اندر گیس بھرنے سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے۔

2023 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی معیارات پر شاذ و نادر ہی عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

Share This Article