بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی( بساک ) کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بلوچستان میں جاری غیر یقینی تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں برسوں سے تعلیمی اداروں کو وقفے وقفے سے ایسی بندشوں کا سامنا ہے جن کا کوئی منطقی یا قابل یقین جواز آج تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کبھی جامعات کو فنڈز کی عدم فراہمی اور اساتذہ کی تنخواہوں کے مسائل کا عذر بنا کر تالے لگا دیے جاتے ہیں، تو کبھی مرمت و تزئین کے نام پر مہینوں تدریسی عمل معطل رکھا جاتا ہے۔ جس سے طلبہ کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔ ان سطحی بہانوں سے کوئی بھی ذی شعور طبقہ بھی مطمئن نہیں ہے، کیونکہ یہ اقدامات تعلیم دوستی کے بجائے تعلیمی دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سمر زون کے تعلیمی ادارے ایک ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں، جبکہ ونٹر زون میں پچھلے چار ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ تعلیمی کیلنڈر کی اس سنگین خلاف ورزی سے طلبہ کا نصاب ادھورا رہ گیا ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بدعنوانی اور اقربا پروری نے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک جانب ڈیجیٹل دور کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچستان کے ہزاروں اسکولز یا تو کاغذات تک محدود ہیں یا بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اب تو حال یہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ سے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے بار بار بندش کے نوٹیفیکیشن جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے طلبہ شدید ذہنی اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام فیصلے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ذہنی پسماندگی کا شکار رکھا جائے اور تعلیمی نظام کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا جائے۔
بساک کے مطابق بطور طلبہ تنظیم، ہم تعلیمی اداروں کی اس بلاجواز بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اعلیٰ حکام، محکمہ تعلیم سے اپیل کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو فی الفور کھول کر تدریسی عمل کا آغاز کرکے طلبہ کے کیریئر کو مزید داؤ پر لگانا بند کیا جائے۔