بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام عید کے روز جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی پر شدید کرب اور بے بسی کا اظہار کیا۔
جبری لاپتہ نعمت اللہ کی والدہ نے بتایا کہ لاپتہ افراد کمیشن کی جانب سے ان کے بیٹے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری ہوچکا ہے، مگر اس کے باوجود نہ انہیں منظرِ عام پر لایا جارہا ہے اور نہ ہی ان کی خیریت سے متعلق کوئی اطلاع دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ماں کے لیے اس سے بڑھ کر اذیت کوئی نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی حالت سے بے خبر ہو، اور عید جیسے خوشی کے دن بھی اس کا دل غم سے بھرا رہے۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ نعمت اللہ کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق اہلِ خانہ کے سامنے پیش کیا جائے۔
جبری لاپتہ سیف اللہ کی ہمشیرہ نے کہا کہ ان کے بھائی کو 12 مارچ کی رات سی ٹی ڈی اہلکاروں نے خلفیہ چوک، منو جان روڈ، ہدہ کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف اللہ بے گناہ ہیں، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ گمشدہ رکھا جائے۔
اسی طرح جبری لاپتہ محمود علی لانگو کی والدہ نے کہا کہ عید کا دن ہر ماں کے لیے خوشیوں کا پیغام ہوتا ہے، مگر ان کے لیے یہ دن بھی دکھ، انتظار اور بے بسی کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا برسوں سے لاپتہ ہے اور ہر عید ان کے زخموں کو تازہ کر دیتی ہے۔
جبری لاپتہ غنی بلوچ کی ہمشیرہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عید خوشیوں کا تہوار ہے، مگر ان کے خاندان کے لیے یہ دن بھی دیگر دنوں کی طرح غم اور انتظار میں گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے پیارے بازیاب نہیں ہوتے، کوئی دن خوشی کا دن نہیں رہتا۔
احتجاج میں شریک اہلِ خانہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور ان کے خاندانوں کو اس اذیت ناک انتظار سے نجات دلائی جائے۔