بلوچستان کی حقیقی آوازوں پر قدغن ، سنگر نیوز کی واٹس ایپ چینل حذف، نیا چینل قائم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، میڈیا بلیک آؤٹ اور زمینی حقائق رپورٹ کرنے والے آزاد میڈیا پلیٹ فارمز کو سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے کمیونٹی گائیڈ لائن کی آڑ میں حذف کرنے کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بلوچستان کے حقائق دکھانے والے متعدد پلیٹ فارمز کو بغیر کسی واضح خلاف ورزی کے بند کیا جا رہا ہے، جبکہ طاقتور اکاؤنٹس کو کھلی خلاف ورزیوں کے باوجود برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف امتیازی ہے بلکہ آزادی اظہار پر براہِ راست حملہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے کی تازہ مثال سنگر نیوز ہے، جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، ریاستی جبر اور مسلح جدوجہد جیسے حساس موضوعات کی کوریج کے باعث ایک اہم متبادل میڈیا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

ادارہ سنگر کے مطابق، میٹا انتظامیہ نے ان کی آفیشل واٹس ایپ چینل کو یہ الزام عائد کرتے ہوئے ڈیلیٹ کر دیا کہ چینل نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ چینل پر ایسی کوئی خلاف ورزی موجود نہیں تھی۔

سنگر نیوز نے بتایا کہ چینل پر ہزاروں فالورز موجود تھے، اور اس اقدام سے ادارے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ادارے نے میٹا سے چینل کی بحالی کی درخواست بھی کی، تاہم کمپنی نے چینل بحال کرنے سے معذرت کرلی۔

اپنی آواز کو خاموش نہ ہونے دینے کے عزم کے ساتھ، ادارہ سنگر نے فوری طور پر اپنا نیا آفیشل واٹس ایپ چینل قائم کر دیا ہے۔
🔗 نیا چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VbCpmWF9xVJYIjPyZo0S

ادارہ سنگر نے تمام فالورز، صحافتی حلقوں اور بلوچستان میں دلچسپی رکھنے والے قارئین سے اپیل کی ہے کہ وہ تازہ ترین رپورٹس، اپڈیٹس اور زمینی حقائق تک رسائی کے لیے نئے چینل کو فالو کریں۔

بلوچ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز طاقتور ریاستی بیانیوں کے سامنے جھک جاتے ہیں، اور بلوچستان جیسے خطوں کی حقیقی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے کمیونٹی گائیڈ لائنز کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق، اگر پلیٹ فارمز واقعی آزادی اظہار کے حامی ہیں تو انہیں اپنے فیصلوں میں شفافیت لانا ہوگی اور کمیونٹی گائیڈ لائنز کا اطلاق سب پر یکساں کرنا ہوگا، ورنہ بلوچستان کی آوازیں مزید دب جائیں گی۔

Share This Article