بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں، جہاں ٹرین سروس، موبائل نیٹ ورک، انٹرنیٹ اور تعلیمی سرگرمیاں بیک وقت معطل کر دی گئی ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق آج کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ کر دی گئی ہے، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس بھی جیکب آباد سے آگے نہیں چلائی جائے گی۔
حکام نے بتایا کہ مسافروں کو مکمل کرایہ واپس کیا جائے گا اور ٹرین سروس کی معطلی "ناگزیر وجوہات” کی بنا پر صرف آج کے لیے کی گئی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ، نوشکی، خاران، دالبندین، مستونگ، قلات، سبی سمیت متعدد علاقوں میں مواصلاتی نظام معطل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وزارتِ داخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، تاہم سیاسی و سماجی حلقوں نے اس فیصلے کو عوامی مشکلات میں اضافے کے مترادف قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 23 مارچ کے موقع پر بھی بلوچستان میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروس معطل کی گئی تھی، جبکہ اب تعلیمی سرگرمیوں کی بندش میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔
حکومتِ بلوچستان کے محکمہ کالجز، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بلوچستان بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکول، کالجز، جامعات، پولی ٹیکنک ادارے، بی آر سیز اور کیڈٹ کالجز 31 مارچ 2026 تک بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ 9 مارچ کے سابقہ نوٹیفکیشن کے تسلسل میں کیا گیا ہے۔
محکمہ کے مطابق موجودہ حالات، طلبہ و اساتذہ کے تحفظ اور انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی ناگزیر تھی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس دوران کسی بھی تدریسی یا ہم نصابی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ متعلقہ اداروں کو فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
سیکریٹری کالجز صالح محمد بلوچ کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کی نقول تمام متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ فیصلے پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔