بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے تعلیمی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان ایک سنگین تعلیمی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں طلبہ کو بنیادی تعلیمی حقوق تک میسر نہیں۔
ترجمان کے مطابق بار بار تعلیمی اداروں کی بندش، ناقص حکومتی پالیسیاں، اور سہولیات کی عدم دستیابی نے طلبہ کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اسکولوں اور کالجوں کی عمارتیں یا تو خستہ حال ہیں یا مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں تعلیمی ادارے سرے سے موجود ہی نہیں۔ اساتذہ کی شدید کمی، گھوسٹ ٹیچرز کا مسئلہ، اور تدریسی معیار کی گراوٹ نے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولیات کا فقدان طلبہ کو جدید تعلیم سے محروم رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث آن لائن تعلیم جیسے اقدامات غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے طلبہ کو جان بوجھ کر پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جو ایک سنگین ناانصافی ہے۔
ترجمان نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ سرد علاقوں میں طویل تعلیمی بندشیں، ٹرانسپورٹ کی کمی، اور سیکیورٹی مسائل بھی طلبہ کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ خاص طور پر طالبات کو سماجی و معاشی رکاوٹوں کے باعث تعلیم کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے، تعلیمی اداروں کی بحالی، اساتذہ کی بھرتی، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی طلبہ کے ضائع شدہ وقت کے ازالے کے لیے جامع اور ہنگامی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جائے۔
آخر میں بی ایس او نے خبردار کیا کہ اگر تعلیمی مسائل کو فوری حل نہ کیا گیا تو تنظیم صوبہ بھر میں بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔