بلوچستان میں قبائلی تصادم اور شاہراہوں پر حادثات،4 افراد ، 755 زخمی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
The dead man's body. Focus on hand

بلوچستان میں ایک جانب قبائلی تنازعات نے انسانی جانوں کا نقصان بڑھا دیا ہے، تو دوسری جانب عید کے تین روز کے دوران بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر سینکڑوں حادثات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر چار افراد ہلاک اور 755 سے زائد زخمی ہوئے۔

ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں سیگی اور شمشوزئی قبائل کے درمیان پرانے تنازعے کے باعث گزشتہ رات سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔

فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں میں سیگی قبیلے کے حاجی طاہر خان اور علی محمد شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں روح اللہ، حدایت اللہ، عبدالباقی، سلیمان، ولی محمد اور ضیا الدین شامل ہیں۔

کشیدگی کے باعث زخمیوں کو بروقت نہیں اٹھایا جا سکا، تاہم ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا اور علاج معالجہ شروع کر دیا۔

ڈی پی او اطہر رشید کی ہدایت پر پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی، جس نے دونوں فریقین کے درمیان پوزیشن سنبھال کر مزید تصادم کو روک دیا۔

انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے رابطوں کے بعد فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا۔

دوسری جانب عید الفطر کے تین روز کے دوران بلوچستان کی قومی، بین الاقوامی اور بین الصوبائی شاہراہوں پر مجموعی طور پر 514 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں2 افراد ہلاک جبکہ 749 زخمی ہوئے۔

میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر بلوچستان کے مطابق سب سے زیادہ حادثات مصروف قومی شاہراہ این 25 پر رپورٹ ہوئے، جہاں لکپاس، قلات، خضدار، لسبیلہ اور وندر کے علاقوں میں 180 حادثات رونما ہوئے، جن میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 300 زخمی ہوئے۔

این 50 پر زیارت کراس، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور شیرانی کے علاقوں میں 231 حادثات کے دوران 294 افراد زخمی ہوئے، جبکہ مکران کوسٹل ہائی وے این 10 پر 14 حادثات میں 24 افراد زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ این 65 پر 30 حادثات میں 47 افراد، این 85 پر 13 حادثات میں 21 افراد، موٹروے ایم 8 پر سات حادثات میں آٹھ افراد اور شاہراہ این 86، این 70 اور این 40 پر 27 حادثات میں 35 افراد زخمی ہوئے۔

تمام زخمیوں کو مختلف MERC 1122 مراکز اور ہسپتالوں میں منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی گئی۔

عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی دشمنیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام کے لیے ٹریفک نظام اور سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع روکا جا سکے۔

Share This Article