لبنان کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو فوج کے سربراہ جوزف عون کو ملک کا سربراہ منتخب کر لیا ہے اور صدر کے عہدے پر ایک ایسے جنرل فائز ہو گئے ہیں جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
لبنان کی 128 رکنی پارلیمنٹ میں کسی بھی امیدوار کو صدر منتخب ہونے کے لیے 86 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے مطابق جنرل جوزف عون پہلے راؤنڈ میں 86 ووٹ نہیں لے سکے تھے۔ تاہم وہ دوسرے راؤنڈ میں 99 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔
صدارت کی نشست اکتوبر 2022 میں صدر میشال عون کی مدت صدارت کے اختتام کے بعد سے خالی تھی اور سیاسی دھڑوں میں انتہائی گہرے اختلافات کی وی سے وہ کسی بھی ایسے امیدوار پر متفق ہونے میں ناکام رہے جو پارلیمنٹ سے اپنے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکے۔
حزب اللہ کے ایک مخالف کرسچین قانون ساز میشال معوض نے، جنہوں نے عون کو ووٹ دیا تھا، ووٹنگ سے قبل رائٹرز کو بتایا کہ’’ بین الاقوامی کمیونٹی کی جانب سے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ لبنان کی مدد کے لیے تیار ہیں لیکن وہاں ایک صدر اور حکومت ہونی چاہیے۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ، ’’ ہمیں سعودی عرب سے مدد کا ایک پیغام ملا ہے۔‘‘
یہ انتخاب اس بات کا عکاس ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اپنی پریشان کن جنگ کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کا ااثر و رسوخ متاثر ہوا ہے۔
اس انتخاب سے لبنان اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی بھی عکاسی ہوئی ہے جب کہ شیعہ مسلم گروپ حزب اللہ گزشتہ سال کی جنگ کے بعد اور دسمبر میں اپنے شامی اتحادی بشار الاسد کا تختہ الٹے جانے کے بعد بری طرح متاثر ہوا ہے۔
یہ اقدام اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ملک میں سعودی اثر و رسوخ بحال ہو گیا ہے جہاں اس سے قبل ایران اور حزب اللہ کی وجہ سے ریاض کا کردار گہنا گیا تھا۔
لبنان کے آئین میں صدارتی عہدہ مسیحی آبادی کی سیاسی امور میں شراکت کے لیے مسیحیوں کے نمائندے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
سعودی رائل کورٹ کے ایک قریبی ذریعے نے کہا ہے کہ فرانس، سعودی اور امریکی سفیروں نے حزب اللہ کے قریبی اتحادی بری کو بتایا کہ سعودی عرب سمیت بین الاقوامی مالی معاونت عون کے انتخاب پر منحصر ہے۔
عون کا انتخاب ایک ایسے ملک میں سرکاری اداروں کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے جہاں دو سال سے زیادہ عرصے سے نہ تو کوئی سربراہ مملکت تھا اور نہ ہی بااختیار کابینہ۔