بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرزکی شہر شہر تربت میں پاکستانی فورسز پر ہونے والے بم دھماکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 4 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔
بی ایل اے نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی فدائی یونٹ مجید بریگیڈ نے آج تربت میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر فدائی حملہ کرکے متعدد فوجی اہلکار ہلاک کردیئے۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔
پولیس کے مطابق دھماکہ تربت شہر سے آٹھ کلومیٹر دور بہمن کے علاقے میں ایک بس میں ہوا ہے جو کراچی سے تربت جارہی تھی، جب کہ 8 زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے کے بعد بس پر راکٹ بھی فائر کیے گئے ہیں، جب کہ بس میں سیکیورٹی اہلکار بھی سوار تھے۔
دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
پولیس کا کہنا ہےکہ تربت دھماکے میں ایس ایس پی سیریس کرائم ونگ ذوہیب محسن زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے میں ذوہیب محسن کے خاندان کے6 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ذوہیب محسن فیملی کے ہمراہ دھماکے کے وقت وہاں سے گزر رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہےکہ دھماکےکے حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آسکے کہ وہ سویلین ہیں یا سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔
واضع رہے کہ اب تک آئی ایس پی آر کا موقف بھی سامنے نہیں آیا ہے۔