فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے بعد حکومت کا 3000 اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

فرانس کی حکومت نے ثانوی تعلیم کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کے مطالبے پر نوجوان طلبہ کے تین ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد 3000 اضافی متبادل اساتذہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسے حکومت کی جانب سے اسے مظاہرین کے مطالبات کے جواب میں پہلی ٹھوس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانس کے وزیرِ تعلیم ایڈوارڈ جیفری نے جمعرات کی شام ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ وزارت ایک نیا کمپیوٹر پروگرام استعمال کرے گی، جس کے ذریعے اضافی اساتذہ کو ضرورت کے اعتبار سے تقریباً 500 ثانوی سکولوں میں تعینات کیا جائے گا۔

احتجاج کے دوران جمعرات کو ملک بھر میں تقریباً 71 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جن میں سے 24 ہزار پیرس کے پلیس دے لا باستیل میں جمع ہوئے۔

پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ بورڈو میں ایک سکول میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ مارسی میں سکول کے ایک نائب سربراہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

حکومت کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک چھ ہزار 877 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں 86 فیصد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

جمعے کو ملک کے تین ہزار 500 میں سے تقریباً 140 ہائی سکول مکمل یا جزوی طور پر بند رہے، جو گذشتہ دنوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ تاہم، آئندہ منگل کو ایک اور احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔

تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا طویل عرصے سے کہنا ہے کہ اساتذہ کی غیر حاضری اور ان کی جگہ پڑھانے کے لیے متبادل اساتذہ کی کمی کے باعث طلبہ کا تدریسی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

نئے پروگرام کے تحت ان سکولوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں اساتذہ کی کمی سب سے زیادہ ہے، جن میں بڑی تارکینِ وطن آبادی والے شہروں کے مضافاتی علاقوں کے سکول بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
TAGGED:
Share This Article