بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملوں، دھماکوں اور جبری اغوا کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نوشکی، قلات اور چاغی کے علاقوں میں پیش آنے والے ان مختلف واقعات میں پاکستانی فوجی قافلوں کو نشانہ بنانے اور کسٹم اہلکار کے اغوا کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
نوشکی میں گزشتہ روز ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد مراد ولد محمد مصطفی مینگل کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ نوشکی کے علاقے کلی قادر آباد کا رہائشی تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق متوفی کا سر اور دھڑ شناخت کے لیے میر گل خان نصیر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو دو مختلف مقامات پر نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دشتِ بابا کے علاقے میں مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر مبینہ حملہ کیا ہے۔
اسی طرح ریکو ڈک کے علاقے میں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے لیے رسد لے جانے والی ایک گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے۔
تاہم، دونوں واقعات میں کسی بھی جانی نقصان یا دیگر تفصیلات کے حوالے سے تادمِ تحریر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایک اور واقعے میں، مسلح افراد نے چاہسر کے علاقے میں کوئٹہ سے ڈیوٹی کے لیے بس کے ذریعے دالبندین جانے والے کسٹم کے اہلکار محمد ابراہیم ڈومکی ولد غلام حسین ڈومکی کو دیگر چار مسافروں سمیت اغوا کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، مسافر بس کے خراب ہونے پر مسلح افراد نے مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کرنے کے بعد انہیں اپنے ساتھ لے لیا۔