بلوچستان کے صحافیوں ، غیر سرکاری تنظیموں و سماجی رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن کے حصول کیلئے 2024ء کا سال اپنے اہداف حاصل نہ کرسکا۔ امسال مذکورہ قانون کے مطابق اہداف کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد جاری رہے گی۔
ان خیالات کا ظہارگزشتہ روز سیاسی و سماجی رہنمائوں ، صحافیوں، وکلاء ، اکیڈمیاں اور پبلک اکائونٹبلٹی فورم کے نمائندوں عادل جہانگیر، منظور احمد رند، بہرام بلوچ، ظفر بلوچ، بہرام لہڑی ، سیماب رفیق سمیت دیگر نے ایڈ بلوچستان کے پروگرام سال 2024ء میں "کیا کھویا کیا پایا” کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے خواتین، بچوں سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت رائٹ ٹو انفارمیشن بلوچستان کے قانون 2021 کو اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد نہیں کر پا رہی، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ عوام کو ان کا آئینی حق نہیں مل رہا۔
مقررین نے کہا کہ جب تک ہر شہری کو اس قانون سے آگاہی حاصل نہیں ہوگی اس پر عمل نہیں مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سال اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔
نوجوانوں کو اس حوالے سے آگاہی دینا ہوگی اور انہیں اس اہم قانون کے حوالے سے روشناس کرانا ہوگا۔ 2025 کو ایڈ بلوچستان کو اپنا ہدف نوجوانوں کو بنانا ہوگا۔
اس موقع پر امتیاز احمد، فضا کنول، وکلا عبدالحئی، عبدالجبار، صادق سمالانی، وسیم باری، شیزان ولیم،سمیع شارق، محمد شعیب سرپرہ، ندیم محمد حسنی، اظہرمینگل، ارشامنظور، جمیلہ، سمبل، ارم امتیازسمیت دیگر نے بھی اظہار خیال کیااور اختتام پر 2025 کا کیٹ کاٹا۔