تھران | مانیٹرنگ ڈسک
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمارے محدود وسائل اور وراثت میں ملے مسائل ہیں، دارالحکومت کو کسی ساحلی شہر میں منتقل کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی (فلٹرنگ) کے خاتمے میں، جو تدریجی طور پر دیگر پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہو گا، اگر دیگر قوتوں کے سربراہوں کی مدد اور تعاون نہ ہوتا تو ہم سے یہ کام ممکن نہیں ہوپاتا۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ایران میں واٹساپ ، سگنل اور گوگل پلے پر سے پابندی ہٹا دی گئی تھی۔ ایران کے صدر نے اپنے انتخابی مہم کے دوران انٹرنیٹ پر سے پابندی ہٹانے کا بھی وعدہ کیا تھا۔
صدر نے پیر کی شام سمنان کے نمائندوں کے وفد سے ملاقات کی اور کہا کہ سمنان وہ صوبہ ہے جہاں ترقی کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس صوبے کی صلاحیتوں کو سامنے لایا جائے، لیکن صوبے کے منتظمین کو خود میدان میں آنا چاہیے اور موجودہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے انھیں فعال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور صرف حکومت کی جانب سے ملنے والے بجٹ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
انھوں نے صوبہ گلستان کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ ملک بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ میں نے ان مسائل کو حتی الوسع لوگوں کو بتانے سے گریز کیا ہے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس محدود وسائل ہیں اور ملک کے یہ مسائل ہم نے پیدا نہیں کیے بلکہ ہمیں وراثت میں ملے ہیں۔
پزشکیان نے حکومت کے ابتدائی دنوں سے اب تک کے بحرانوں کا ذکر کیا اور کہا کہ جب میں نے کام شروع کیا تو نرسوں نے ہڑتال کی تھی، گندم کاشتکار حکومت سے اپنے واجبات مانگ رہے تھے، اساتذہ اور ریٹائرڈ افراد کو تنخواہیں نہیں ملی تھیں، صحت کے شعبے میں 90 ارب تومان کا قرضہ تھا، بجلی اور پانی کی خریداری کے لیے وزارت 150 ارب تومان کا مقروض تھا اور 1200 ارب تومان کا بجٹ خسارہ تھا۔ یہ سب میں ناامیدی پھیلانے کے لیے نہیں بتا رہا بلکہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں بحران کے بعد بحران کا سامنا ہے اور پابندیاں بھی سخت ہو گئی ہیں؛ اس کے باوجود ہم کمیوں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے کامیاب ہوں گے۔
انھوں نے ایک نمائندے کی جانب سے پانی کی کمی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کا مسئلہ صرف ایک علاقے یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔
صدر نے دارالحکومت کو تھران سے سمندر کے کنارے کسی شہر میں منتقل کرنے کے موضوع پر بات کی اور کہا کہ تھران میں وسائل اور خرچ کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے ہمیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
پزشکیان نے چودھویں حکومت کی ترجیحات میں سے ایک ’’ سکول تعمیر کرنا ‘‘ اور ’’ تعلیمی نظام کی اصلاح‘‘ کو قرار دیا اور کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ خیراتی اداروں اور عوام کی مدد سے ملک کے تمام حصوں میں تعلیمی سہولیات کی کمی کو پورا کریں گے اور تعلیمی نظام کی اصلاح بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
انھوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر نمائندوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کی جانچ حکومت میں کی جائے گی اور ان کے حل کے لیے درست فیصلے لیے جائیں گے۔
اس اجلاس میں صدر کے پارلیمانی امور کے نائب اور سمنان کے گورنر کے علاوہ کئی نمائندوں نے شرکت کی جنھوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں پینے کے پانی کی کمی، سڑکوں کی خراب حالت، سیاحت کی صنعت کی عدم توجہ، صوبے کی کانوں کے غیر فعال ہونے جیسے مسائل کو اٹھایا اور گورنر کو خصوصی اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تاکہ بعض اہم فیصلے براہ راست صوبے میں لیے جا سکیں۔
سمنان کے گورنر نے بھی پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کا ذکر کرتے ہوئے صوبے کے لیے ایک اعلیٰ پانی کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے سولر پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم 2400 میگاواٹ کی پیداوار کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔