ظریف بلوچ کی میت کی جبری تدفین کا فیصلہ،آسیاباد و تربت میں دھرنے جاری

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گذشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے ظریف بلوچ کی میت کی جبری تدفین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ آسیاباد اور تربت ڈی بلوچ شاہرائوں پر ان کو انصاف دلانے کیلئے احتجاجی دھرنے جاری ہیں جس سے ٹریفک مکمل معطل ہے۔

جبکہ دوسری مقامی انتظامیہ بشمول سیکورٹی فورسز نے زبردستی شاہرائیں کھولنے کیلئے دھرنا مظاہرین جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا لیکن مظاہرین تمام تر ریاستی جبر کے باوجود انصاف کے حصول کیلئے دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضع رہے کہ آج ورثا ظریف بلوچ کی لاش کوپوسٹ مارٹم کی غرض سے تمپ سے تربت شہر کیلئے روانہ ہوئے لیکن پاکستانی فورسز نے انہیں آسیاباد کے نزدیک تمپ کلاہو کراس پر روک دیا ہے جس پر ورثا نے ادھر ہی روڈ بلاک کرکے دھرنا دیدیاہے ۔

ظریف بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف تمپ میں دن بھر شٹرڈاؤن ہڑتال رہی ۔

گذشتہ شب جب ظریف بلوچ کی لاش برآمد ہوگئی تو ورثا نے فیصلہ کیاتھاکہ وہ انصاف کیلئے تربت شہر جائیں گے ۔اور قافلے کی شکل میں وہ تربت شہر کیلئے نکل گئے لیکن انہیں راستے میں روک دیا گیا اوردھرنا گذشتہ رات سے جاری ہے۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ظریف بلوچ کے لواحقین شدید ہراسانی، ڈرانے دھمکانے اور تشدد برداشت کرنے کے بعد ظریف بلوچ کی بے جان لاش کو دفنانے پر مجبور ہیں۔ اسے نسل کشی کرنے والی پاکستانی فورسز نے ان کے گھر سے اغوا کیا تھا، جنہوں نے بعد میں اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی۔

انہوں نے کہا کہ جب اہل خانہ نے اس غیر انسانی سلوک کے خلاف مزاحمت کی تو وہ ظریف کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئے اور اس کے سرد خون کے قتل کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ تاہم، خاندان اور تمپ کے رہائشیوں کو فرنٹیئر کور (ایف سی) نے تربت کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ فورسز نے اہل خانہ کو حراست میں لے لیا اور ظریف کی لاش کو قبضے میں لے لیا۔ گزشتہ رات سے اہل خانہ کا احتجاجی دھرنا جاری ہے، جو تاحال جاری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ واضح رہے کہ پاکستانی فورسز نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ظریف بلوچ کو قتل کیا، ان کے خاندان کو جان بوجھ کر حراست میں لیا اور انہیں تربت پہنچنے سے روک دیا، جہاں پوسٹ مارٹم ہونا تھا۔ یہ بے گناہ بلوچ افراد کو قتل کرنے اور انصاف کے مطالبات کو خاموش کرنے کی ان کی دیرینہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کے کارکنوں اور تربت کے رہائشیوں نے بھی ڈی بلوچ کراس بلاک کرکے احتجاج کیا۔ انہیں پولیس اور فورسز کی طرف سے دھمکیوں اور ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑا۔ دریں اثناء ٹمپ کے مکینوں نے اس ظلم کی مذمت میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نسل کشی کرنے والی قوتیں روزانہ کی بنیاد پر بلوچوں کو زبردستی اغوا، قتل اور پھینک رہی ہیں۔ جب خاندان انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، تو انہیں دبایا جاتا ہے اور دھمکیاں دی جاتی ہیں، جیسا کہ ظریف اور اس کے غمزدہ خاندان کے ساتھ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ظریف کے گھر والوں نے اب اسے دفن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس کی لاش بری طرح مسخ ہو چکی تھی۔ تاہم، وہ اپنا احتجاج جاری رکھنے اور ظریف کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ BYC مضبوطی سے خاندان کے ساتھ کھڑا ہے اور جلد ہی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔ جب ریاستی فورسز کے ہاتھوں ہمارے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہو تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔

Share This Article