پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں گوادر اور پنجگور سے ایک کمسن بچہ سمیت 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔
گوادر سے لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت فضل بشیر اورکمال ولد دین محمد کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
دونوں نوجوانوں کا تعلق ضلع کیچ سے ہے ۔ فضل بشیر خیرآباد اور کمال دین محمد ناصر آباد کا رہائشی ہے۔
دونوں نوجوانوں کو فورسز نے 23 دسمبر کو گوادر شہر میں فقیر کالونی سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد دونوں لاپتہ ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ کمال دین محمد کو اس سے قبل بھی فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا اور کچھ عرصے بعد رہا کیا تھا اب ایک بار پھر انہیں حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح ضلع پنجگور سے فورسز نے چھاپہ مار کر تیرہ سالہ کمسن لڑکے کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے کی شناخت بالاچ ولد صبراللہ کے نام سے ہوئی ہے جنہیں 10 دن پہلے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کردیا گیاتھا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق گرفتاری کے وقت فورسز نے ان پر تشدد بھی کیا اور زخمی حالت میں اس کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
بتایا جارہاہے کہ اس سے پہلے بھی فورسز نے اس گھر پر چھاپہ مارا ہے گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی ہے، پچھلے مہینے اسی گھر کے سامنے دو دستی بم بھی پھینکے گئے تھے تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز مسلسل اس گھر پر چھاپے مارتے ہیں اور خاندان کو ہراساں کرتے رہتے ہیں۔