پاکستانی فوج کی کمانڈرز کانفرنس: بلوچستان میں عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن وانہیں بے اثر کرنے پر زور

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں پاک فوج کی اسلام آباد میں قانونی تعیناتی کے خلاف پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ زہر اگلنے، جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کے خاتمے کے لیے سخت قوانین وضوابط بنائے اور ان پر عمل درآمد کرائے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر صدارت 2 روزہ 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔

ترجمان کے مطابق کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف افسران اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی، کانفرنس کے آغاز میں فورم نے ہلاک اہلکاروںکے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے پاکستان کے امن و استحکام کے لیے اپنی جانیں دینے والے اہلکار افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاکستانی شہریوں اور اسلام آباد میں حالیہ پر تشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جاری بیان میں بتایا گیا کہ فورم نے بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور غزہ میں جاری مظالم کی پُر زور مذمت کی اور غزہ میں جاری فوجی جارحیت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانونی اقدامات کی بھی حمایت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکا کو بیرونی اور اندرونی خطرات کے تناظر میں موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی، شرکا نے روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ بھی لیا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ فورم نے انسداد دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا جامع تجزیہ کیا اور بلوچستان میں عسکریت پسندوں بالخصوص بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) مجید بریگیڈ کے خلاف آپریشن پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کی ایما پر کام کرنے والے عسکریت پسندوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بے اثر کرنے کا عزم کیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق فورم نے پاک فوج کی دارالحکومت کی اہم سرکاری عمارتوں کومحفوظ بنانے اور قابل احترام غیر ملکی وفود کو دورہ پاکستان کے دوران محفوظ ماحول فراہم کرنے کی غرض سے پاک فوج کی قانونی تعیناتی کے خلاف کیے جانے والے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کہا کہ کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ یہ مربوط اور پہلے سے تیار کردہ پروپیگنڈہ بعض سیاسی عناصر کے مذموم عزائم کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد پاکستان کے عوام، مسلح افواج اور اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا ہے، بیرونی عناصر کی مدد سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کی ایسی مذموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

جاری اعلامیے کے مطابق فورم نے حکومت پر زور دیا کہ زہر اگلنے، جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کے خاتمے کے لیے سخت قوانین وضوابط بنائے اور ان پر عمل درآمد کرائے۔

بیان کے مطابق شرکا نے جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

اس میں کہا گیا کہ فورم نے دہشت گردوں بالخصوص فتنتہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کے بے دریغ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو اپنی سر زمین کو عسکریت پسندی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے واضح اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بیان کے مطابق فورم نے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور عسکریت پسندی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے میں حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اس موقع پر آرمی چیف نے ملکی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے درپیش کسی بھی قسم کی مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاریوں اور پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کی اہمیت پر زور دیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article