بی بی سی کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست میں ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ بھی شامل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

برطانوی نشریاتی ادارہ برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن(بی بی سی) نے ہرسال کی طرح امسال بھی یعنی 2024 کے لیے دنیا بھر کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست جاری کی ہے۔

اس فہرست میں امسال بلوچستان سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ و سرگرم سیاسی وانسانی حقوق کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کی سال 2024 کے لیے دنیا بھر کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست میں نوبل امن انعام یافتہ نادیہ مراد، ریپ سے بچ جانے والی اور انسانی حقوق کی کارکن گیسل پیلیکوٹ، اداکارہ شیرون سٹون، اولمپیئن ایتھلیٹ ریبیکا اینڈریڈ اور ایلیسن فیلکس، گلوکارہ رے، وژوئل آرٹسٹ ٹریسی ایمن، ماحولیاتی تحفظ کی کارکن اڈینیکی اولاڈوسو اور مصنفہ کرسٹینا ریویرا گرزا و دیگر بھی شامل ہیں۔

بی بی سی نے اپنی 100 متاثر کن وبااثرخواتین کی فہرست میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ایک ڈاکٹر اور سیاسی کارکن کے طور پیش کیا ہے ۔

ماہ رنگ بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان بھر میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والی سینکڑوں خواتین میں سے ایک بلوچستان میں مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ماہ رنگ بلوچ بھی ہیں۔

بی بی سی رقم طراز ہیں کہ انھوں نے انصاف کا مطالبہ اس وقت کیا جب ان کے والد کو مبینہ طور پر 2009 میں سکیورٹی سروس کے افسران نے حراست میں لے لیا تھا اور دو سال بعد تشدد کے نشانات کے ساتھ مردہ پائے گئے تھے۔

مزید کہا گیا کہ سنہ 2023 کے اواخر میں ماہ رنگ بلوچ نے سینکڑوں خواتین کی قیادت میں دارالحکومت اسلام آباد تک 1000 میل کا مارچ کیا تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ سفر کے دوران انھیں دو بار گرفتار کیا گیا۔

بی بی سی مزید لکھتے ہیں کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے انسداد بغاوت کی کارروائی کے دوران اغوا کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے یہ ڈاکٹر اپنے ہی انسانی حقوق کے گروپ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بینر تلے ایک نمایاں کارکن بن گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے میدان میں ان کے کام کو ابھرتے ہوئے رہنماؤں کی ٹائم 100 نیکسٹ 2024 کی فہرست میں تسلیم کیا گیا تھا۔

بی بی سی اپنی 100 متاثر کن وبااثرخواتین کی فہرست میں مزید لکھتے ہیں کہ غزہ، لبنان، یوکرین اور سوڈان میں مہلک تنازعات اور انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے سے لے کر دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں انتخابات کے بعد معاشروں میں پولرائزیشن دیکھنے تک، خواتین کو مزاحمت کے لیے نئی راہیں تلاش کے میں بہت محنت کرنا پڑی ہے۔

جاری کی گئی نوٹ میں کہا گہا کہ بی بی سی 100 خواتین اس بات کا اعتراف ہیں کہ اس سال خواتین کو کس قدر نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ایسی خواتین کو اجاگر کیا جو اپنی مزاحمت کے ذریعے تبدیلی پر زور دے رہی ہیں کیونکہ ان کے ارد گرد دنیا بدل رہی ہے۔ یہ فہرست ماحولیات کی ہنگامی صورتحال کے اثرات کو تلاش کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے اور ماحولیاتی تحفظ کی ایسی بانیوں کو اجاگر کرتی ہے جو اپنی برادریوں کو اس کے اثرات سے نمٹنے اور اس کے مطابق ڈھالنے میں مدد دے رہی ہیں۔

Share This Article