بلوچستان کے ضلع آوران سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار دلجان بلوچ کے لواحقین نے ضلعی حکام کی یقین دہانی کے بعد 14 دنوں سے ڈپٹی کمشنر کی آفس کے سامنے جاری احتجاجی دھرنا مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔
لواحقین نے کہا کہ دلجان بلوچ اگلے دو ماہ میں بازیاب نہ کیے گئے تو دوبارہ احتجاج کریں گے۔
اہل خانہ کی طرف سے مذاکرات میں دلجان بلوچ کی ہمشیرہ و دیگر نے حصہ لیا۔
انہوں نے دلجان کی جبری گمشدگی کے خلاف جے آئی ٹی بنانے اور دھرنا کے شرکا پر قائم مقدمات ختم کرنے کے شرائط رکھے جنہیں حکام نے مان لیا۔
یاد رہے کہ اس دھرنا میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ اور سماجی کارکن گلزارِ دوست نے بھی شرکت کی تھی جب کہ دھرنا گاہ میں ڈپٹی کمشنر کی آفس کے سامنے ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس میں علاقے کے خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔
دلجان بلوچ کو 12 جون 2024 کو آواران میں ان کے گھر سے فورسز نے حراست میں لیا تھا، اور وہ تب سے لاپتہ ہیں۔ 18 نومبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں لواحقین اور مقامی افراد نے اواران کی مرکزی سڑکیں بند کر دی تھیں، جنہیں آج کی کامیاب مزاکرات میں حکام کی یقین دہانی پر کھول دیا گیا۔
دوسری جانب سوراب میں کلیم اللہ رودینی کی جبری گمشدگی کیخلاف جاری احتجاجی دھرناکامیاب مذاکرات کے بعد ختم کردیا گیا۔
سوراب کے مقام پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کئی گھنٹوں بلاک ہونے کے بعد مکمل طور بحال کر دیا گیا ہے۔
کلیم اللہ رودینی کے جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین نے سوراب کے مقام پر قومی شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔
بعد ازاں لواحقین کا اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، ڈی ایس پی سوراب ناصر حسین ، ایس ایچ او سوراب حبیب اللہ نیچاری، ایڈیشنل ایس ایچ او سوراب سرور مہتاب ، اور دیگر نے متاثرین خاندان سے مذاکرات کرکے روڈ کو آمدرفت کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیں۔