بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج کی لشکر کشی جاری ہے،جبری گمشدگیوں میں بھی تیزی و اضافہ ہوا۔
ضلع کیچ اور گوادر سے فورسز نے مزید 4 افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیئے جبکہ ایک بازیاب ہوگیا ہے۔
ضلع کیچ کےعلاقے زامران میں گیشتردان،نوانو، ھان کلگ سمیت گردانواح کے علاقوں میں فوجی جارحیت جاری ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فوجی جارحیت کے دوران فورسز نے گیشتردان سے 2 افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والوں کی شناخت شعیب ولد ملا سلام سکنہ گلی اور پزیر ولد فتح محمد سکنہ نوانو کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
مذکورہ افراد کو فورسز نے اس وقت حراست میں لیا ہے جب وہ دونوں اپنے مویشیوں کو دیکھنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکار تعینات ہیں جبکہ فوجیوں کی آمد و رفت بھی جاری ہے۔
دوسری جانب ضلع گوادر سے چار روز قبل فورسز نے گوادر بلوچی وارڈ میں گھر پر چھاپہ مار کر ابو اور عاصم ولد حاصل سکنہ بلنگور کلیرو نامی دو بھائیوں کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا۔
بتایا جارہاہے کہ فورسز نے انکے گھر پر چھاپہ مار کر خواتین بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر انکے موبائل فون بھی چھین کر لے گئے تھے ۔
ذرائع کے مطابق مزکور خاندان بیس دن قبل بلنگور سے ہجرت کرکے یہاں آکر آباد ہوئے تھے ،تاکہ روزگار کر سکیں ۔
بتایا جارہاہے کہ وہ بیروزگاری سے تنگ آکر محض بیس دن پہلے بلنگور سے ہجرت کرکے گوادر منتقل ہوگئے تھے تاکہ روز گار مل سکے ۔
دریں اثناپنجگور چتکان کا رہائشی مشہور فٹبالر فیصل اسپیڈ ولد حاجی حسین جنہیں دو سال قبل فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا،2 سال بعد تربت سے بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔