بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کی آرڑ میں جاری فوجی جارحیت و بربریت سے تشویشناک کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جبری گمشدگیوں سے خاندانوں کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں بی وائی سی ترجمان کا کہنا تھا کہ ریاست اور اس کے حکام نے بلوچ نسل کشی اور مزاحمت کو کچلنے کے لیے جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی ہے۔
انہوںنے کہا کہ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو متاثرین اور ان کے خاندانوں کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کر رہا ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں متعدد افراد کو لاپتہ کیا گیا جن میں سے 11 کے نام درج کیے جارہے ہیں۔
جن میں اوتھل کے اٹھال بازار سے بالاچ، بیان، ناصر اور گلاب بلوچ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جو لسبیلہ یونیورسٹی کے طلبا ہیں۔
اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت آسکانی بازار سے نثار بلوچ اور سلیم بلوچ جبکہ ضلع گوادر کے تحصیل جیوانی سے فقیر محمد، داد محمد اور درجان بلوچ کو فورسز حراست میں لینے کے بعدلاپتہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ کراچی سے پرویز صمد اور صدیق احمد نامی 2 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیاگیا ہے۔
بی وائی سی کا کہناتھا کہ ریاست اور اس کے حکام نے بلوچ نسل کشی اور مزاحمت کو کچلنے کے لیے جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی ہے۔ بلوچ ہر جگہ ریاست کا نشانہ بن چکے ہیں۔